چوتھا سفر
Urdu book, p. 59
By Maulana Wahiduddin Khan
تھے " ابھی تھوڑے دنوں پہلے یہاں سڑک اور بجلی نا قابل تصور چیزیں تھیں"۔ میرے ساتھی نے کہا" یہاں راستہ چلنا دشوار تھا۔ مگر آج یہاں ہر طرف چہل پہل ہے ، ہر طرف گلزار بنا ہوا ہے۔ ایک نئی زندگی نے حوصلوں کے ساتھ ابھرتی ہوئی نظر آتی ہے"۔ میرا ساتھی یہ کہہ رہا تھا اور میرے تصور کی نگاہیں دور میو قوم کو دیکھ رہی تھیں جو ابھی تک اس بات سے بے خبر ہے کہ نئے زمانے نے اس کے لئے بے شمار امکانات کھول دئے ہیں۔ یہ جفا کش اور بہادر قوم ان نئے امکانات سے فائدہ اٹھانے کی بے پناہ صلاحیت رکھتی ہے مگر افسوس کہ ابھی تک نہ اس کو اپنا شعور ہو سکا ہے اور نہ ماحول کا۔ میں انھیں خیالات میں غرق تھا کہ بس اگلے اسٹینڈ پر رکی اور خاکی کپڑے پہنے ہوئے ۸۔ ۱۰ بچے گاڑی میں داخل ہوئے۔ ان کے کندھوں پر لٹکے ہوئے کتابوں کے بستے بتا رہے تھے کہ وہ طالب علم ہیں۔ "یہ کون لوگ ہیں " میں نے اپنے ساتھی سے پوچھا " یہ میو کے بچے ہیں، فیروز پور کے اسکول میں پڑھنے جا رہے ہیں۔ یہ معلوم کر کے مجھے بڑی خوشی ہوئی۔ کیوں کہ اس کا مطلب یہ تھا کہ میوؤں کی پچھڑی ہوئی قوم میں اب تعلیم کی طرف ایک آغاز ہو گیا ہے۔ کچھ برسوں بعد انشار اللہ تعلیم و ترقی کا وہ منظر ہماری آنکھوں کے سامنے ہوگا جس کو دیکھنے کے لئے آج ہماری آنکھیں ترس رہی ہیں۔ ۱۶ اکتوبر کی دوپہر کو ہم کھوری جمال پور پہنچے۔ یہ پورا گاؤں پہاڑی کے دامن میں بسا ہوا ہے، یہاں ایک "ٹھٹھری" ہے جس کی عمارت کافی بلندی پر واقع ہے۔ دن کے بارہ بجے میں اس کے صحن میں لیٹا ہوا تھا۔ ہری پتیوں سے لدے ہوئے درخت چاروں طرف پھیلے ہوئے تھے۔ ٹھنڈی ہوائیں آ آ کر میرے جسم سے ٹکرا رہی تھیں۔ ایک طرف پہاڑی کا حصار کھڑا اٹھا تھا۔ دوسری طرف افق تک سبزہ پھیلا ہوا عجیب سماں پیدا کر رہا تھا" کس قدر حسین ہے یہ کائنات " میں نے اپنے دل میں کہا " مگر کتنی عجیب بات ہے کہ وہ قوم اس حسن کی ذمہ دار نہیں جو اس جغرافیہ میں بستی ہے "۔ عبدالرحمن صاحب یہاں کے سرپنچ ہیں۔ ان سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ یہاں ایک سرکاری اسکول اور اسلامی مدرسہ قائم ہے۔ مگر بچے نہیں ملتے۔ مفت تعلیم کا انتظام ہونے کے باوجود کتاب اور روشنائی کے پیسے دینا بھی ماں باپ کو زیادہ معلوم ہوتا ہے۔ میں نے عبدالرحمن صاحب سے کہا کہ میو قوم کے بچوں کا تعلیم میں پیچھے رہنا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ قوم زمانے سے بہت پیچھے چلی جائے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader