چوتھا سفر
Urdu book, p. 60
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے کہا کہ ان لوگوں میں تعلیم کا شوق بڑھانے کی کیا صورت ہے ۔ انھوں نے جواب دیاکہ ہمارے میواتیوں کو خود سے تعلیم کا شوق نہیں ہو سکتا۔ ان کا علاج یہی ہے کہ جبری ایجوکیشن پر عمل کیا جائے ۔ انھوں نے کہا کہ حکومت نے اب بھی لازمی تعلیم کے اسکول کھول رکھے ہیں مگر اس پر عمل نہیں ہوتا۔ جو بچے نہیں پڑھنے ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا۔ میں نے کہا اپنے علاقہ کے ایم ایل اے سے کوشش کرائیے، انھوں نے کہا ان لوگوں سے بھی کوئی امید نہیں ۔ ان کا اپنا کوئی مسئلہ حل ہوتا تو وہ اسمبلی میں سوال کھڑا کر دیں گے ۔ مگر پبلک کے فائدے کے لئے کچھ نہیں کرتے۔ معاملہ خاں یہاں پرائمری اسکول کے واحد ٹیچر ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ بیوقوم کا یہ حال ہے کہ بچے پڑھانے کے لئے نہیں دیتے "۔ یہاں جب ہم آیا تو اٹھارہ بچوں کا نام رجسٹر پر تھا جس میں چار بچے مسلمان تھے اور بقیہ ہریجن ۔ حالانکہ آبادی میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ اس سے پہلے میں جائوں کی ایک بستی میں تھا، وہاں کسی سے بچوں کے داخل کرنے کے لئے نہیں کہنا پڑتا تھا ۔ جہاں کسی خاندان کا کوئی بچہ پڑھنے کے قابل ہوا جاٹ باپ اپنے بچہ کو اسکول میں لے آتا اور کہتا اجی ماسٹر جی ہمارا بچہ پڑھنے کے قابل ہوگیا اس کو داخل کر لو " اس کے ساتھ وہ ایک روپیہ اور دینا کہ بتانتے خرید کر رکھ لو اور لڑکے کو دیتے رہو تاکہ وہ آتا رہے، دوسری طرف میوات کا یہ حال ہے کہ دس پیسہ کا فتا عدہ خرید نا بھی اس کو بوجھ معلوم ہوتا ہے ۔ " میوات کے علاقہ میں مقامی سیاست کا سر براہ " چودھری " ہوتا ہے اور دینی رہنمائی کا مقام علما ر کو حاصل ہے۔ کھوری جمال پور میں علما ر اور چودھریوں کا ایک چھوٹا سا اجتماع ہو گیا تھا۔ اس موقع پر میں نے میوات کے مسائل پر اظہار خیال کیا۔ میں نے کہا کہ میوات میں دینی بیداری کا کام تو بہت ہوا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ کچھ اور کام کرنے کی بھی شدید ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں میں نے دو کام کی طرف خصوصی توجہ دلائی ۔ ایک تعلیم اور دوسرے تجارت ۔ میں نے پہلے ہی منع کر دیا تھا کہ اس سفر میں عوامی اجتماع نہ کیا جائے ۔ اس لئے زیادہ تر خصوصی افراد سے ملاقاتیں رہیں۔ کھوری سے نکو پور جاتے ہوئے سڑک کے دونوں طرف بڑے بڑے زہری فارم نظر آتے ہیں یہ ابھی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader