چوتھا سفر
Urdu book, p. 61
By Maulana Wahiduddin Khan
تھوڑے دن پہلے گڑھوں اور ٹیلوں کی ایک بیکار زمین تھی۔ مگر غیر مسلموں نے اسے معمولی قیمتوں پر خرید کر ٹریکٹر سے ہموار کیا۔ اور اب وہ وہاں کھیتی کر رہے ہیں۔ وہ جدید زرعی طریقوں سے بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ دوسری طرف بیوقوم آج بھی پرانے طریقوں سے چمٹی ہوئی ہے۔ وہ آنکھیں بند کر کے بس انہیں کھیتوں پر ساری محنت صرف کر رہے ہیں جو انہیں باپ دادا سے وراثت میں ملے تھے۔ زکوپور میں جن لوگوں سے ملاقاتیں اور گفتگو رہی، ان میں سے چند خاص نام یہ ہیں۔ ملاجی سلیمان سرپنچ گرام پنچایت زکوپور بابو شادی خاں سکریٹری گرام پنچایت۔ ملاجی سلیمان عجیب و غریب صلاحیت کے آدمی ہیں۔ وہ آزادی کے بعد سے مسلسل یہاں کے سرپنچ ہوتے چلے آتے ہیں۔ اور اس قدر کامیاب ہیں کہ میواری کی عام بستیوں کے برعکس یہاں کوئی جھگڑا نہیں۔ ہر جھگڑا اوپر کا اوپر نمٹا دیتے ہیں۔ مقدمات کا رجسٹرار کے یہاں اب بھی خالی پڑا ہوا ہے۔ نہایت جر سی، فیاض اور عالی حوصلہ آدمی ہیں۔ بابو شادی خاں نے بتایا کہ اس علاقہ میں ۱۹۷۲ء میں جو بستیاں مرتد ہو گئی تھیں ان کی اکثریت اگرچہ دوبارہ مسلمان ہو چکی ہے۔ مگر اب بھی ایسی بستیاں ہیں، جو بدستور مرتد پڑی ہوئی ہیں۔ انھوں نے اپنے ذاتی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مقامی ہندو آبادی کی طرف سے اب ان پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔ کیونکہ یہ ارتداد زیادہ تر بیرونی شرپسندوں کے اثر سے ہوا تھا۔ اب اگر یہ لوگ دوبارہ مسلمان ہو جائیں تو مقامی ہندوؤں کی طرف سے کوئی فتنہ اٹھنے کی امید نہیں ہے۔ مگر جہالت کا یہ عالم ہے کہ جو مرتد ہو گئے تھے وہ اسی حال میں پڑے ہوئے ہیں۔ اب ان کی شادی بیاہ بھی غیر مسلموں میں ہونے لگے ہیں۔ اس طرح وہ دن بدن دور ہوتے جا رہے ہیں۔ میرے اس سفر کے خاص رفیق مولانا نور محمد صاحب اناور تھے۔ موصوف کا تبلیغ سے بہت پر تعلق رہا ہے۔ ایک گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ مولانا الیاس صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے پاس ایک کارکن آتے اور بتاتا کہ فلاں بدعتی شخص کو میں نے ایسے اور ایسے جواب دیا۔ مولانا ان کی گفت گوسنتے رہے اور پھر آخر میں فرمایا: ”تم نے میرے کام کی مدد نہیں کی میرے کام کی جڑ کاٹ دی۔“

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader