Urdu book · میوات کا سفر

چوتھا سفر

Urdu book, p. 62

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی طرح مولا نا یوسف صاحب کا ایک ملفوظ انھوں نے سنایا، ان کے سامنے کچھ لوگوں کی شکایت کی گئی۔ آپ نے فرمایا : "دین کا کام وہی کر سکتا ہے جو اپنے کانوں میں فولاد کے بوجھ ڈال لے۔" مولانا سے پورے سفر کے دوران اس قسم کی مفید باتیں سننے کے مواقع ملتے رہے۔ مولانا محمد زکریا صاحب (ند کو پور) نے مدرسہ امینیہ (دہلی) سے فراغت کی ۔ اب وہ زکوپور کی مسجد کے امام ہیں۔ اسی کے ساتھ مرغی بانی کا کام کرتے ہیں۔ "ہمارے مولویوں میں جو جھگڑا ہے" انھوں نے کہا "وہ پونجی نہ ہونے کا ہے۔ فراغت کے بعد یہ لوگ امامت اور مدرسی کی جگہیں تلاش کرتے ہیں۔ مگر ظاہر ہے کہ امامت اور مدرسی کی جگہیں تو بہت کم ہیں اس لئے ایک دوسرے کو ہٹا کو قبضہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ میں اکثر دیکھتا ہوں کہ ان کو ہٹوا دیا، ان کو لگوا دیا، حالانکہ دونوں ایک ہی کام کرتے ہیں۔ مولا نازکر یا صاحب اس اعتبار سے ایک اچھی مثال ہیں۔ وہ دینی زندگی اور امامت کے ساتھ مرغی کے انڈے کا کاروبار کرتے ہیں اس طرح انھیں جو معاشی فراغت حاصل ہوتی ہے اس کا نمایاں اثر ان کے اخلاق پر نظر آتا ہے۔ وہ محدودیت، وہ تنگ نظری، وہ جھنجھلاہٹ، وہ احساس کمتری جو عام طور پر مدارس عربیہ کے فارغین میں نظر آتی ہے، وہ ان کے اندر بالکل نہیں۔ مولا نا زکر یا صاحب کے ساتھ میں نے کافی وقت گزارا۔ مجھے محسوس ہوا کہ وہ دین داری اور علمیت کے ساتھ کاروبار کی بھی اچھی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مولانازکر یا صاحب نے یہ مرغی فارم تین سال پہلے پچاس روپے کے سرمایے سے شروع کیا تھا۔ اس کے بعد اسی آمدنی سے اس کو ترقی دیتے رہے۔ اب ان کے پاس سوا سومرغیاں ہیں۔ کرنال گورنمنٹ پولٹری فارم کے مطابق ایک مرغی کی قیمت ۲۱ روپے ہوتی ہے۔ اب ان کے پاس ایک پورا مرغی خانہ ہے۔ مرغی خانے کے مختلف سامانوں میں تقریباً ایک ہزار روپے صرف ہوئے ہیں۔ اور ڈھائی ہزار روپے کی مرغیاں موجود ہیں۔ اس وقت ۸۰۔ ۹۰ انڈے روزانہ نکل رہے ہیں۔ انڈوں کی فروخت تقریباً ۳۰ روپے سیکیکڑہ ہو جاتی ہے۔ غلہ کے علاوہ گھر کا سارا خرچ (تقریباً ۸۰ روپے مہینہ) اسی سے نکالتے ہیں۔ مولانا زکریا صاحب جدید طرز پر سارا کام کرتے ہیں۔ مرغیوں کو انجکشن وغیرہ خود لگاتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page