چوتھا سفر
Urdu book, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
پچھلے تین برس میں ان کی ایک مرغی بھی نہیں مری ہے۔ ”آپ نے اس کو ایک نفع بخش کاروبار پایا ہے؟“ میں نے پوچھا۔ ”میں نے تو اپنے تجربہ میں اس کو سو فی صدی نفع بخش کاروبار پایا ہے۔“ انھوں نے فوراً جواب دیا- ”ایک شخص ۵۰ مرغیوں سے کام شروع کرے“ انھوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا۔ ”تو تین سال میں وہ تین سو مرغیوں کا مالک بن جائے گا۔ تین سو مرغیاں روزانہ دو سو انڈوں کا وسط دیں گی۔ اس طرح خرچہ نکال کر ماہانہ چار سور وپے کی آمد ہو سکتی ہے۔“ انھوں نے مزید بتایا کہ کم سرمایہ والا اسی وقت نفع میں رہ سکتا ہے جبکہ منڈی قریب ہو، ورنہ وہ سردیوں کے موسم میں چلے گا اور گرمیوں کے موسم میں گھاٹے میں رہے گا۔ جبکہ انڈے جلد خراب ہو جاتے ہیں۔ البتہ زیادہ سرمایہ سے کہیں بھی کام شروع کیا جا سکتا ہے۔ مولانا نازی صاحب اپنے کاروبار کو بڑھانا چاہتے ہیں۔ یہاں اس کو بڑھانے کے زبردست مواقع ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے ایک پنجابی سے قرض لینے کی کوشش کی تھی۔ انھوں نے اس کے سامنے یہ شکل رکھی کہ میرے پاس دس بیگھہ زمین ہے تم اس کی ضمانت پر مجھے پانچ ہزار روپے قرض دے دو۔ شرط یہ ہو گی جب تک میں روپیہ ادا نہ کروں اس وقت تک ایک مقررہ شرح سے تم کو نفع دیتا رہوں گا۔ اور اگر خدا نخواستہ رقم ڈوب گئی تو اصل رقم بغیر کسی کمی کے تمہیں واپس کر دوں گا۔ پنجابی سے رقم لینے میں تو انھیں کامیابی نہیں ہوئی۔ مگر جب انھوں نے اپنا یہ واقعہ بتایا تو مجھے نظر آیا کہ یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک نہایت عمدہ اقتصادی تجویز بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس علاقہ کی تمام اقتصادیات کا انحصار میوات قوم کی زرعی محنت پر ہے مگر وہ بے پناہ محنت کر کے جو کچھ کماتے ہیں وہ شادی بیاہ اور مقدموں میں برباد کر کے دیتے ہیں۔ اگر اس رقم کو بچا کر ایک فنڈ قائم کیا جائے اور مذکورہ بالا شرائط پر لوگوں کو قرضے دیے جائیں تو ۲۰ برس میں میوات کی قسمت بدل جائے۔ زکوبور سے واپسی پر ہم کچھ دیر کے لئے سوہنہ ٹھہرے یہ ایک تاریخی قصبہ ہے۔ قدیم مشرقی پنجاب اور موجودہ ہریانہ کا یہ حصہ ۱۹۴۷ کے ہنگامہ میں مسلمانوں سے خالی ہو گیا تھا۔ اب بہت تھوڑے سے مسلمان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader