چوتھا سفر
Urdu book, p. 64
By Maulana Wahiduddin Khan
یہاں ہیں جو بعد کو آ کر بسے ہیں۔ ”میرا نام نور الدین ہے جی۔“ ایک مسلمان سقہ نے میرے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا، ”میں کوئی ساڑھے ڈیڑھ سال سے یہاں رہ رہا ہوں، وہ میونسپل کمیٹی میں ملازم ہے۔ اور شہر کی نالیوں میں صفائی کے لئے جھاڑو کا وکٹر تلپہ۔‘ تنخواہ نوے روپے ماہانہ ہے۔‘ اور بھی کچھ کما لیتے ہو؟‘ میں نے پوچھا، ”نہیں جی۔“ نور الدین نے جواب دیا۔ یہاں مسلمان تو ہیں نہیں۔ باقی گھر گھر میں نلکہ لگا ہوا ہے، اس سے وہ پانی لے لیتے ہیں۔“ ”اور مسلمان یہاں سوہنہ میں کتنے ہوں گے؟“ ”ایک گھر فقیروں کا ہے، دو گھر مہدیوں کے ہیں۔....“ ”یہ لوگ کیا کام کرتے ہیں؟“ ”فقیر لوگ بازار میں مانگتے کھاتے ہیں، باقی پلہ داری کرتے ہیں۔ آڑھتوں میں ڈھلائی کا کام۔“ اس سے اندازہ کیجئے کہ یہاں جو تھوڑے بہت مسلمان ہیں ان کی معاشی حالت کیا ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ قدیم زمانہ کی بنی ہوئی ۱۸ مسجدیں ہیں ان میں سے صرف تین مسلمانوں کے پاس ہیں۔ بقیہ زیادہ تر غیر مسلموں کے قبضہ میں ہیں۔ میں نے خود جا کر چند مسجدوں کو دیکھا۔ جامع مسجد بہت بڑی پتھر کی بنی ہوتی ہے۔ اس میں لڑکے اور لڑکوں کا ”پاٹھ شالہ“ قائم ہے۔ میں نے اس عظیم شنگی عمارت کو صرف باہر سے دیکھا۔ کیونکہ پاٹھ شالہ کے ذمہ داروں نے مسجد کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی۔ دوسری مسجد کو میں نے دیکھا کہ وہ باقاعدہ رہائش گاہ بنی ہوئی ہے اور اس میں مویشی بندھے ہوئے ہیں۔ پہلے تہا پلے جا رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ منظر بے حد تکلیف دہ تھا۔ مگر اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ وہ منظر تھا جب میں نے قصبہ کے باہر بنی ہوئی ایک اور رنگی مسجد کو دیکھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ شہنشاہ بابر یا اس کے متصلًا بعد کے زمانہ کی بنی ہوتی ہے۔ یہ مسجد بے حد عمدہ جگہ پر واقع ہے۔ اور مسلمانوں کے قبضہ میں ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ غدر کے زمانہ میں جب انگریزوں نے قبضہ کیا تو ایک عرصہ تک یہ جگہ اپنے عمدہ جائے وقوع کی بنا پر ان کا فوجی مستقر بنی رہی۔ اس کے نشانات اب بھی مسجد میں نظر آتے ہیں۔ اس مسجد کے ساتھ کافی زمین بھی ہے۔ مگر سب یوں ہی غیر آباد اور ویران پڑی ہوئی ہے۔ اگر اس کو گھیر ا جائے اور یہاں پمپ لگا کر سرپیتے وغیرہ کی کاشت کی جائے تو ہزاروں روپے کی آمد ہو سکتی ہے، یہاں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader