Urdu book · میوات کا سفر

چوتھا سفر

Urdu book, p. 65

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک زبردست مدرسہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ مگر ان سب کاموں کے لئے پیسہ کی ضرورت ہے اور پیسہ کا مصرف، ہماری قوم کے پاس یہ ہے کہ شادی میں دھوم دھام کر کے ناک اونچی کی جائے یا کسی مفروضہ ’’ دشمن‘‘ کو جیل پہنچانے کے لئے سارا روپیہ کچہری میں لے جاکر بھر دیا جائے ۔ میں نے سوچا کہ ایک مسجد پر غیر مسلموں نے قبضہ کیا تو ہاں وہ لڑکوں اور لڑکیوں کا شاندار اسکول کھولے ہوئے ہیں۔ دوسری مسجد ہمارے قبضے میں ہے تو وہاں خاک اڑ رہی ہے۔ پھر اگر ہمارا مقدمہ مضبوط نہ ہو تو اس کے لئے ہمیں دوسروں کی نہیں بلکہ اپنی شکایت کرنی چاہئے۔ کیوں کہ ہمارا عقیدہ خواہ جو بھی ہو مگر دنیا کا قانون یہی ہے کہ جو آباد کرتا ہے وہی مالک بنتا ہے۔ ۱۲ اکتوبر کو ہم گیارہ بجے نوح پہنچے۔ نوح کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے پہلے مجھ سے تقریر کی فرمائش کی گئی۔ میں نے اس موقع پر کہا کہ اس علاقہ میں یہ دیکھ کر بڑی خوشی ہوتی ہے کہ لوگوں کے چہروں پر داڑھیاں ہیں۔ ہاتھوں میں تسبیح ہے اور نماز اور عبادت کا عام رواج ہے۔ مگر اسی کے ساتھ بعض دوسرے پہلوؤں سے لوگ سخت غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا کہ اللہ تعالی نے جس طرح ذکر اور عبادت کا حکم دیا ہے اسی طرح یہ بھی کہا ہے کہ تم دنیا میں اس طرح رہو کہ دوسری اقوام کے اوپر تمہاری دھاک بیٹھی رہے۔ میں نے قرآن سے مثال دیتے ہوئے کہا کہ سورہ آل عمران میں انفاق واتحاد کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر تم آپس میں نا اتفاقی کرو گے تو تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی (فتذھب ریحکم) اسی طرح سورہ انفال میں کہا گیا ہے کہ مادی طاقت فراہم کرو تاکہ دشمنوں پر تمہاری دھاک رہے (ترھیبون به عدو الله وعدوكم) ، مگر ان اعتبارات سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ آپ سخت غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ آپ کی آپس کی لڑائیوں کا یہ حال ہے کہ بات بات میں لاٹھی اٹھ جاتی ہے۔ موجودہ زمانہ میں مادی قوت تعلیم اور تجارت میں منتقل ہوگئی ہے۔ مگر آپ تعلیم اور تجارت سے اس طرح دور رہتے ہیں جیسے کہ وہ کوئی حرام چیز ہو۔ میں نے کہا کہ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آپ کی ہوا خیزی ہو چکی ہے۔ اور دوسروں پر آپ کا کوئی رعب باقی نہیں رہا۔ آپ کو ایک حقیر اور ذلیل قوم سمجھا جاتا ہے۔ میری تقریر کے بعد مولانا نیاز احمد صاحب کھڑے ہوئے۔ انھوں نے حاضرین سے سوال کیا ’’ مقرر کی بات سمجھ میں آئی‘‘ آوازیں سنائی دیں۔ ’’کھوب آئی ، کھوب آئی‘‘

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page