چوتھا سفر
Urdu book, p. 66
By Maulana Wahiduddin Khan
مولانانیاز محمد صاحب کی شخصیت گویا اخلاص ومحبت کا دوسرا نام ہے۔ ان سے ملاقات ہوئی۔ مولانا کا مدرسہ جو ایک قدیم جامع مسجد میں واقع ہے اس کے لئے واحد سائبان کی یہ چھوٹی سی مسجد ناکافی ہورہی تھی۔ چنانچہ آج کل وہ اس کے آگے نیا سائبان بنوارہے ہیں۔ میں اپنے سفر میں دیکھتا آرہا تھا کہ بارش اور سیلاب نے میوات کی زراعت کو تباہ کر دیا ہے، اب بھی کھیتوں میں پانی بھرا ہوا ہے۔ ایسے وقت میں مولانا نیاز محمد صاحب کا یہ اقدام بڑی ہمت کا کام ہے۔ کیوں کہ یہاں کی مسلم آبادی کا معاشی انحصار تمام تر زراعت پر ہے اور دینی مدارس کا انحصار مسلمانوں پر اس لئے موجودہ سال اور نتیجہ اگلے سال کے لئے بھی اُن کے اقتصادی مواقع بری طرح تباہ ہو گئے ہیں۔ نوح سے، ہم برکلی کی طرف چلے۔ تارکول کی چکنی سڑک پر ہماری گاڑی تیزی سے پھسل رہی تھی ۔ سڑک کے دونوں طرف کیکر کے ہری پتیوں سے لدے ہوئے درخت عجیب پر بہار منظر پیش کر رہے تھے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں کبھی ڈاکوؤں کے خوف سے لوگ سفر کرتے ہوئے ڈرتے تھے ۔ میں نے سوچا ”مگر دور جدید کی ترقیوں نے اس مقام کو آج کس قدر آباد اور پر رونق بنادیلا ہے“، جس زمین پر یہ سڑکیں پھیلی ہوئی ہیں اور گاڑیاں نئے دور کا پیغام لے کر دوڑ رہی ہیں، وہیں یہ قوم اس حال میں پڑی ہوئی ہے کہ اسے معلوم بھی نہیں کہ زمانہ کی گردش نے اسے کس دور میں پہنچا دیا ہے اور کون سے امکانات ہیں جو انتظار کر رہے ہیں کہ وہ جاگے اور ان کو استعمال کرے ۔ برکلی میں بس اسٹینڈ پر ایک میواتی عبد الصمد صاحب (امام نگر) سے ملاقات ہوئی۔ وہ دودھ کا کاروبار کرتے ہیں۔ میرے سوالات کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ سو روپیہ سے لے کر دوسو روپیہ مہینہ تک کی آمدنی انھیں ہوجاتی ہے ۔ مگر میو برادری میں اس قسم کے کام کو پسند نہیں کیا جاتا۔ میو تو بس زمیندارہ ہی کو ایک کام جانتے ہیں “ مزید گفت گو کے دوران انھوں نے بتایا کہ یہاں کے لوگ اتنے جاہل ہیں کہ اپنا نفع نقصان بھی نہیں سمجھتے۔ لڑائی جھگڑا کریں گے اور رشوتوں سے افسروں کی جیب بھریں گے۔ ان کے الفاظ میں: ”یہاں جو افسر آجاتے ، وہ کائی بھاڑ میں جانے کی طبیعت نہ کرے “ انھوں نے بتایا کہ ایک تھانے دار کا تبادلہ ہوا تو اس نے کہا مجھے حوالہ دار بن دو مگر یہیں رہنے دو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader