Urdu book · میوات کا سفر

چوتھا سفر

Urdu book, p. 67

By Maulana Wahiduddin Khan

"بڑے سے چھوٹو بنا دو، پھر یہیں رہو۔" میو قوم کی جہالت نے اس کو دیگر اقوام کے لئے استحصال کا بہترین ذریعہ بنا رکھا ہے۔ بنیا سود کے ذریعہ، افسران رشوت کے ذریعہ اس کو لوٹ رہے ہیں۔ اگر یہ سب نہ بھی ہو تو میو قوم چونکہ تجارت سے یکسر طور پر کنارہ کش ہے، اس لئے بازار کے راستہ وہ سب کچھ کھیوں سے نکل جاتا ہے جو وہ کھیتوں پر اپنا پسینہ بہا کر کھاتی ہے۔ برکلی سے ہمیں پونھانا جانا تھا بس میں میرے پاس کھڑے ہوئے ایک پتلون پوش مسافر نے میرے ساتھی سے کہا : "یہ کسی اخبار کے ایڈیٹر ہیں ؟" اس وقت میں اپنی رپورٹ کی سطریں لکھ رہا تھا۔ اور اس کو دیکھ کر اسے شبہ ہوا۔ گفتگو کے بعد معلوم ہوا کہ وہ ہفت روزہ الجمعتہ دیکھتا رہا ہے اور کسی اسکول میں ٹیچر ہے۔ اس سفر میں کئی ایسے تجربے ہوئے جس سے اندازہ ہوا کہ میوات میں ہفت روزہ الجمعتہ کا حلقہ بڑھ رہا ہے۔ ۷ اکتوبر ۱۹۶۹ء کو مغرب کی نماز ہم نے پونھانا میں پڑھی۔ یہاں قصبہ کے باہر جو سڑک گزرتی ہے اس پر چھوٹا سا بازار بن چکا ہے۔ یہاں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ چند بڑے پختہ مکانات میں سے ایک بڑا مکان بیٹو کا بھی ہے۔ یہ مولانا محمد الیاس صاحب (۳۰ سال) ہیں جو مدرسہ امینیہ کے فارغ ہیں۔ میوات کے لحاظ سے یہ ان کی پیش بینی قابل داد ہے کہ دس برس پہلے جبکہ یہاں خاک اڑتی تھی اورسونی سڑک کے سوا کوئی چیز مسافر کا استقبال کرنے کے لئے موجود نہ تھی انھوں نے اس جگہ کی اہمیت کو سمجھا اور اپنا پہلا مکان یہاں کھڑا کیا۔ پونھانا ضلع گڑگاؤں کا ایک قصبہ ہے ۔ ۱۲ برس پہلے یہاں مواصلات کے ذرائع نہیں تھے ۔ اس کے بعد برکلی سے ہوڈل تک سڑک بنی جس سے یہ مقام پورے ملک سے جڑ گیا۔ موجودہ سڑک قدیم قصبہ سے کسی قدر فاصلہ سے گزرتی ہے۔ قصبہ میں ۱۹۴۷ء کے بعد غیر مسلم اکثریت ہو گئی ہے۔ مگر اطراف کی بستیوں میں اب بھی مسلمان ہی زیادہ تعداد میں بستے ہیں ۔ پونھانا کے پاس سڑک کے کنارے کی تمام زمینیں مسلمانوں کی تھیں مگر وہ سب کی سب دوسروں نے خرید لیں اور آج وہاں ان کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page