چوتھا سفر
Urdu book, p. 68
By Maulana Wahiduddin Khan
دکانیں کھڑی ہوئی ہیں۔ یہ المیہ اکثر ان قصبات میں پیش آرہا ہے جہاں سڑکیں بنائی گئی ہیں۔ میو قوم تجارت اور دکانداری سے پہلے ہی دستکش تھی ۔ اب جدید سڑکوں کی تعمیر کے بعد جو زمینیں تجارت کی اہمیت اختیار کر رہی تھیں ان کو بھی اس نے بننے کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ میں نے رات یہیں گزاری۔ صبح آنکھ کھلی تو ایک میوڈور د انگیز انداز میں یہ نغمہ گا رہا تھا۔ خدا کے سامنے سر کو جھکا لیتے تو اچھا تھا اگر بگڑی ہوئی قسمت بنا لیتے تو اچھا تھا مسلمانوں تمہیں اس فرقہ بندی نے مٹا یا ہے اگر تم راہ اک اپنی بنا لیتے تو اچھا تھا ایک طرف میو یہ نغمہ الاپ رہا تھا، دوسری طرف سڑک کے اوپر بازار کی سرگرمیاں زندہ ہورہی تھیں ۔ بسیں اور ٹرک گھڑ گھڑا رہے تھے ۔ دوکانوں پر روشنائیاں جلائی جا رہی تھیں ۔ لوگ نئے دن کی آمد پر دکانیں سجانے کی تیاری کر رہے تھے ۔ میں نے سوچا ” میو جو نغمہ گا رہا ہے کتنا صحیح ہے۔ مگر موجودہ زمانہ میں وہ ایک بے اثر روایتی لفظ بن کر رہ گیا ہے ۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان الفاظ کو جدید دنیا کے ساتھ ہم آہنگ نہیں کیا جا سکا۔ جن مسلمانوں نے یہاں سڑک کے کنارے اپنی زمینیں فروخت کی ہیں وہ اس حقیقت سے بے خبر تھے کہ سڑک“ کیا چیز ہے اور اس کے کنارے کی زمین کیا حیثیت رکھتی ہے ۔ وہ اس حقیقت سے بھی بے خبر تھے کہ سڑک کی تعمیر نے ان کی زرعی زمین کو کار و باری زمین کے درجہ پر پہنچا دیا ہے۔ انھوں نے معمولی داموں پر اپنی زمینیں فروخت کر دیں اور اب اپنی زمینوں پر وہ بے جگہ ہو کر رہ گئے ہیں۔ ” خدا کے آگے سرجھکانا “ اور ” فرقوں کو ختم کرنا “ اعلیٰ ترین چیزیں ہیں ۔ مگر ان چیزوں کو فروغ دینے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ زمانہ کے لحاظ سے دنیا میں ان کے لئے جگہ فراہم کی جائے ۔ جو اصول زمین میں اپنی جگہ حاصل نہ کر سکے وہ زندگی میں اپنی جگہ حاصل نہیں کر سکتا کیونکہ زندگی زمین پر بنتی ہے ، ہوا میں نہیں بنتی۔ یہ مولوی الیاس حضرت رائے پوری کی خدمت میں عرصہ تک رہے ہیں ، ان کے واقعات اور قیمتی ملفوظات سنتے رہے مثلاً انھوں نے بتایا کہ ایک بار دنیا کی چیزوں کا ذکر نہاتو فرمایا: ” محلات سب دین ہیں ، محرمات سب دنیا ہیں۔ جو اللہ میاں نے حلال کیا وہ دنیا کس طرح ہوسکتی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader