Urdu book · میوات کا سفر

چوتھا سفر

Urdu book, p. 69

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے ۔“ میو قوم کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے مولوی الیاس صاحب نے کہا میو قوم کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی خود داری ہی ہے۔ مگر یہی اس کے لئے مصیبت بھی بن گئی ہے۔ بڑھی ہوئی خود داری کی وجہ سے انہیں کسی کی ماتحتی گوارا نہیں ہوتی۔ اسی لئے ان میں تسلیم کا رجحان نہیں ہے۔ کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ تعلیم حاصل کر کے ملازمت کرنی ہوگی اور ملازمت نبھےگی نہیں۔ کار و بار کا معاملہ یہ ہے کہ ان کے پاس سرمایہ نہیں۔ کم سرمایے سے معمولی کام شروع کر سکتے ہیں۔ مگر اس میں بھی خود داری رکاوٹ بن جاتی ہے۔ بڑا کام کرنا ہو تو کریں مگر اس کے لئے سرمایہ کہاں سے لائیں۔ ۱۸ اکتوبر کی صبح کو ۹ بجے ہم اٹا وڑ (ضلع گوڑ گاؤں) پہنچے۔ اس قصبہ میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ قصبہ میں جب میں اپنے رفیق مولانا محمد صاحب کے ساتھ چل رہا تھا تو راستے پر سیدھے سادے میوؤں کو دیکھ کر مجھے عجیب عبرت ہو رہی تھی۔ بڑے اور چھوٹے سلام کر کے فوراً دونوں ہاتھ مصافحہ کے لئے بڑھاتے اور پھر خاموشی سے الگ ہو جاتے۔ میرے سامنے ٹوٹے پھوٹے مکانات تھے۔ گندی گلیاں جو قدم قدم پر گھومتی تھیں ۔ ایک ایسی بستی کا منظر پیش کررہی تھیں جو ابھی دور جدید سے نہ صرف پیچھے ہے بلکہ اسے خبر بھی نہیں کہ دور جدید ہے کیا۔ اٹا وڑ میں علماء ، چودھریوں اور عام لوگوں کا ایک مجمع اکٹھا ہوگیا تھا۔ میں نے گفتگو کرتے ہوئے اپنے خیالات پیش کئے ۔ یہاں چودھری یسین خاں صاحب ایک خاص شخصیت ہیں۔ انھوں نے میو قوم کے بارہ میں بہت سی باتیں بتائیں ، انھوں نے میو قوم کے بارہ میں ایک شعر سنایا: تری مہماں نوازی دیکھ کر اے قوم شرمائی فضائے عالمِ برزخ میں روحِ حاتم طائی انھوں نے کہا کہ یہ قوم بے حد جفا کش ، بے حد وفادار ، بے حد فیاض ہے ، مگر اس کی خصوصیات ضائع ہو رہی ہیں۔ ان کو استعمال نہیں کیا گیا۔ اٹا وڑ میں یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ یہاں میو کسانوں نے تقریباً ساٹھ ٹیوب ویل لگائے ہیں اور لگاتے جارہے ہیں۔ آٹے کی مشینبی بھی بہت سی لگی ہوئی ہیں۔ میوات کے لحاظ سے یہ ایک نئی بات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page