تمہید
Urdu book, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
سلاطین دہلی کے زمانہ میں ہو رہی تھی ۔ الجمعیتہ ویکلی کی ادارت (۱۹۷۳ء ۔ ۱۹۷۶ء) کے زمانہ میں مجھے میوات جانے اور وہاں کے حالات کا قریب سے مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔ ان اسفار کی مفصل رودادیں الجمعیتہ میں شائع ہوتی رہی ہیں ۔ زیرِ نظر مجموعہ اٹھیں مضامین پر مشتمل ہے ۔ ان مضامین اور رودادوں کی حیثیت اگر چہ اب زیادہ تر تاریخی ہو چکی ہے تاہم اب بھی کمی اعتبار سے ان میں افادیت کے پہلو موجود ہیں۔ اس لیے ان کو موجودہ مجموعہ کی صورت میں شائع کیا جا رہا ہے ۔ میوات کے سفروں میں جو چیزیں میں نے دیکھیں ، ان میں شاید سب سے عجیب چیز یہ تھی کہ دو گروہ ایک ہی جغرافیہ میں ایک دوسرے کے پڑوسی بن کر رہتے ہیں، مگر دونوں کا مزاج ایک دوسرے سے بالکل الگ ہے ۔ یہ دو گروہ ہیں ــــــــــ میو اور جاٹ ۔ میوؤں کے مزاج میں عدم اطاعت ہے ۔ وہ صدیوں سے ہر طاقت سے لڑتے رہے ہیں۔ کسی طاقت کی ماتحتی قبول کرنا وہ اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں ۔ ان کے اسی مزاج کا نتیجہ تھا کہ ۱۸۵۷ء میں انگریزوں کے خلاف بغاوت ہوئی تو میو لوگ جوش و خروش کے ساتھ اس میں شریک ہو گئے ۔ ایک میواتی مبصر کے الفاظ میں ” میوؤں نے نہایت سختی سے مقابلہ کیا۔ اگر انگریزی فوج کے پاس آرٹلری بندوقیں نہ ہوتیں تو اس کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا ....... میو بہادری سے لڑے مگر کامیابی انگریزوں کو ہوئی ۔ کیوں کہ ان کے پاس نئے اور بہتر قسم کے ہتھیار تھے اور میوؤں کے پاس صرف پرانے قسم کے ہتھیار تھے “ میو قوم اور میوات ، صفحہ ۱۳۳ میوؤں کا یہی مزاج ان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ رہا ہے۔ وہ مسلم بادشاہوں سے لڑتے رہے ۔ اس لیے مسلم بادشاہوں نے بار بار ان کی سرکوبی کے لیے سخت اقدامات کیے۔ انھوں نے انگریزوں سے لڑائی کی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ مسلسل انگریزی عتاب کا شکار رہے ۔ ان کے حصہ میں ہر دور کا نقصان آیا ، کسی دور کا فائدہ ان کے حصہ میں نہ آسکا ۔ صدیوں تک میوؤں کی ان ناکام لڑائیوں نے میوؤں کو اتنا کمزور کر دیا ہے کہ اب ان کے اندر کسی سے لڑنے کی طاقت نہیں ۔ اب ان کی لڑائی کا مزاج صرف اپنوں کے خلاف ظاہر ہوتا ہے۔ دوسروں سے لڑنے کے لیے آدمی خواہ کتنا ہی کمزور ہو جائے مگر اپنوں سے لڑنے کے لیے وہ ہمیشہ طاقتور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader