Urdu book · میوات کا سفر

چوتھا سفر

Urdu book, p. 70

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے کیونکہ میو اس سے پہلے مشین وغیرہ پر یقین نہیں رکھتے تھے اور اکثر مقامات پر اب تک یہی حال ہے۔ روپڑہ میں ولی محمد صاحب وکیل سے ملاقات ہوئی۔ ان کو میو قوم کی اصلاح کا بڑا درد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک بار انھوں نے گاؤں کے تمام لوگوں کو جمع کیا اور کہا کہ اس وقت سب سے اہم مسئلہ میو قوم کو تعلیم یافتہ بنانا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہر خاندان یہ طے کرے کہ وہ اپنے یہاں سے کم از کم ایک لڑکا اسکول میں داخل کرے گا۔ مگر لوگ تیار نہیں ہوئے۔ انھوں نے ایک انگریز مسٹر برین کی کتاب (Village Uplift in India) کا ذکر کیا۔ اس میں میوات کا بھی ذکر ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ میو قوم بڑی جاندار ہے اور جب وہ تعلیم کی طرف مائل ہوگی تو ملک میں ممتاز حیثیت حاصل کر لے گی۔ ۱۸ اکتوبر کی شام کو چار بجے ہم مالپوری پہنچے۔ یہاں میوات کے مشہور مصلح مولانا عبداللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے مولانا رشید احمد صاحب سے ملاقات ہوئی۔ یہ اپنے والد صاحب قبلہ کے اسلامی کام کو اس علاقہ میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ گوٹ میں شادی کے مسئلہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے میں نے کہا کہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ مسئلہ کہیں پیدا ہوتا ہے اور اس کا حل کہیں ہوتا ہے۔ میں نے کہا مجھے ایسا نظر آتا ہے کہ گوٹ کے اندر شادی کے مسئلہ کی اصلاح مذہبی طرز پر مشکل ہے۔ اس قسم کی چیزیں جب زیادہ مدت تک کسی قوم میں رائج رہتی ہیں تو ان پر ایک تقدس کا رنگ چھا جاتا ہے۔ گویا وہ مذہب جس کے حوالے سے ہم رسم کو دور کرنا چاہتے ہیں خود رسم بھی اسی قسم کا مذہب بن چکی ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں میرا خیال ہے کہ اگر جدید تعلیم کو رواج دیا جائے تو شاید زیادہ جلد اصلاح ہو جائے۔ میں نے کہا کہ جدید تعلیم کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ سائنٹفک نقطہ نظر یا موضوعی طرزِ فکر پیدا کرتی ہے۔ اور موضوعی طرزِ فکر روایتی طرزِ فکر کے عین برعکس ہے۔ اس طرح ایک کا پیدا ہونا خود بخود دوسرے کو ختم کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔ مولانا رشید صاحب نے میرے اس خیال سے اتفاق نہیں کیا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے اس کا تجربہ کیا ہے مگر میں نے اس کا فائدہ نہیں پایا۔ مولانا رشید صاحب نے ہفت روزہ الجمعیتہ پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جب جدید تعلیم اور اقتصادیات پر آپ جو اس قدر شدت سے زور دیتے ہیں تو اس کا مطلب کیا ہے کیا آپ دین میں اسی کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page