Urdu book · میوات کا سفر

چوتھا سفر

Urdu book, p. 71

By Maulana Wahiduddin Khan

سب سے زیادہ اہم چیز سمجھتے ہیں۔ میں نے کہا کہ دین میں اصل اور اولین اہمیت کی چیز صرف ایک ہے اور وہ ہے بندے اور خدا کے درمیان تعلق پیدا ہونا۔ اسی تعلق باللہ کے اوپر آخرت کی کامیابی کا انحصار ہے۔ مگر اسی کے ساتھ دنیوی زندگی کی نسبت سے بھی کچھ تقاضے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ دوسرے درجہ کی چیزیں ہیں اور ہماری موجودہ زندگی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ دنیا میں اہل دین کا غلبہ ہو۔ ان کی دھاک قائم ہے۔ اسی دوسرے مقصد کے لئے میں تعلیم اور اقتصادیات پر زور دیتا ہوں ،کیوں کہ موجودہ زمانہ میں اس کے بغیر دنیوی استحکام پیدا نہیں سکتا۔ مولانا میرے جواب سے مطمئن ہو گئے۔ مولانارشید صاحب نے مولانا الیاس صاحب کا ایک واقعہ بیان کیا۔ دہلی میں ایک شخص تھے جو داڑھی مونڈتے تھے۔ ان کا آنا جانا نظام الدین میں نہ تھا۔ لوگوں کو ان کی خلاف شرع وضع پسند نہیں تھی۔ ایک بار کسی نے ٹوک دیا۔ یہ بات انھیں اتنی بری لگی کہ انھوں نے نظام الدین آنا چھوڑ دیا۔ مولانا الیاس صاحب کو معلوم ہوا تو خود ان کے پاس گئے اور ان سے فرمایا: ”بھائی معاف کرو ہم کو بات کہنا نہیں آیا“۔ مولانارشیداحمد صاحب سے اس قسم کی مفید باتیں بہت دیر تک ہوتی رہیں۔ روہڑاپا میں میں نے حکیم الدین ، شمس الدین اور صلاح الدین صاحبان سے ملاقات کی۔ یہ تینوں بھائی احمد آباد ( نارول) میں کپڑے کے کارخانہ میں چھپائی کا کام کرتے تھے۔ یہ سلمان کا کارخانہ تھا جو بالی ڈائنگ کے نام سے مشہور تھا۔ احمد آباد کا فساد جب اطراف میں پھیلا تو بالی ڈائنگ کی بھی باری آگئی۔ ”کارخانہ کے مزدوروں کے درمیان آپس میں کوئی فساد نہیں تھا “۔ حکیم الدین صاحب نے مجھ سے بیان کرتے ہوئے کہا۔ ”یہاں تک کہ جب باہر لوگ آگ لگا رہے تھے اس وقت بھی اندر ہند و مسلمان کام کر رہے تھے۔ نارول کے کارخانوں میں جب آگ لگنا شروع ہوئی تو تینوں بھائیوں نے پہلے آگ بجھانے اور مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔ مگر جلد ہی ان کے پاس ان کے کارخانے کا مستری بھاگم چھکی (پان پور۔ اقبال گڑھ ) آیا اور کہاکہ یہاں سے بھاگو ورنہ تم لوگ بھی مارے جاؤ گے۔ چنانچہ اس نے تینوں بھائیوں کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page