Urdu book · میوات کا سفر

چوتھا سفر

Urdu book, p. 72

By Maulana Wahiduddin Khan

باہر باجرہ کے کھیت میں پہنچا دیا۔ یہاں یہ لوگ تین روز رہے۔ جنتی روزانہ ان کے پاس چھپ کر آتا اور پانی، بیٹری، کھانا پہنچاتا جانا جو چوتھے روز وہ آیا تو اس نے کہا کہ لوگوں کو شبہ ہو گیا ہے اور وہ کہہ رہے ہیں کہ مسلمانوں کو بیکار کھاہے اور کھانا د وغیرہ پہنچاتا ہے، اب تک میں نے تم لوگوں کی حفاظت کی۔ اب ہم لوگوں کا بچنا مشکل ہے اس لیے یہاں سے چلے جاؤ۔ یہ لوگ کھیت سے باہر نکلے۔ احمد آباد کے اطراف کی تمام بستیاں غیر مسلموں کی ہیں۔ اس لئے کسی گاؤں میں جانے کا سوال ہی نہیں تھا۔ راستہ میں ہندوؤں کی ٹولیاں ملیں اور پوچھ گچھ کی۔ مگر وہ لوگ چونکہ دھوتی پہنے ہوئے تھے اس لئے انھوں نے ان کو " بھیا " سمجھ کر چھوڑ دیا۔ یہ لوگ نالوں کے راستہ سے چھپتے چھپاتے احمد آباد کی درگاہ شاہ عالم پر پہنچے اور وہاں کچھ روز رہ کر اپنے وطن واپس آگئے۔ ماپوری سے واپسی میں میں نے کچھ وقت ہستین میں مولانا بشیر احمد صاحب کے مدرسہ میں گزارا۔ مولانا بشیر صاحب ایک مخلص نوجوان ہیں جو دینی خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں۔ ان کو مدرسہ چلانے میں سخت مشکلات پیش آرہی ہیں۔ مگر انھوں نے ہر حال میں اس کو جاری رکھنے کا عزم کر رکھا ہے۔ یہاں چاؤخاں (کنچن نیر ضلع بھرت پور) سے ملاقات ہوئی۔ ایک گفتگو کے دوران انھوں نے کہا: میوات میں تو وہی شخص کامیاب ہوگا جو لوگوں کو پھر سے مسلمان بنائے “۔ انھوں نے کہا کہ باہر والے تو میوات کو پتہ نہیں کیا سمجھتے ہیں۔ مگر حقیقت حال اس سے مختلف ہے۔ انھوں نے کہا کہ مولا نا یوسف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی ایک تقریب میں نے سنی۔ اس میں انھوں نے میواتیوں کے بہت بڑے مجمع کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا: " تم لوگ ابھی دریا کے ساحل پر ہو، تم ابھی دین کے کنارے آئے ہو۔ دین کی گہرائی میں نہیں پہنچے “۔ انھوں نے کہا میواتیوں کا یہ حال ہے کہ اوپر سے تو مذہب اور اندر سے کچھ نہیں۔ جب کسی برائی پر ٹوکا جائے تو جواب دیں گے: ” ہمارے باپ دادا سے چلا آیا ہے تو ہم کیسے چھوڑ دیں۔" انھوں نے بتایا کہ چور گڑھ کی (ضلع بھرت پور) میں مولانا یوسف صاحب بیعت لے رہے تھے۔ بہت سے لوگوں نے " بھیٹا بکڑا " مگر جب مولانا نے کہا کہ کہو " چوری نہیں کریں گے " تو سب نے بھیٹا چھوڑ دیا۔ اٹھول

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page