Urdu book · میوات کا سفر

چوتھا سفر

Urdu book, p. 73

By Maulana Wahiduddin Khan

نے کہا " یہ ہمارا کسب ہے اس کو کیسے چھوڑ دیں گے " مگر اب تبلیغ کی برکت سے بیشتر لوگ چوری کا کام چھوڑ چکے ہیں۔ مالبورى میں سڑک کے کنارے ایک ٹریننگ سنٹر ہے جس کا نام ہے (Common Facility Workshop) یہاں مختلف قسم کے تکنیکل کاموں کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔ اس وقت چھ طالب علم ہیں جن میں سے چار مسلمان ہیں۔ اس قسم کے کام اگر میوات میں پھیلائے جائیں تو بہت فائدہ ہو۔ ۱۹ اکتوبر کی دوپہر کو ہم پلول پہنچے۔ پلول گویا میوات کی سرحد ہے۔ دلی سے قریب ہونے کی وجہ سے یہ ایک بڑا تجارتی مرکز بن گیا ہے۔ سیکڑوں دیہاتوں کے میو یہیں خریداری کے لئے آتے ہیں۔ مگر وہ صرف خریدار ہوتے ہیں۔ دکان دار نہیں۔ یہ منظر پورے میوات میں نظر آتا ہے۔ بے شمار چھوٹے چھوٹے دیہاتوں کا یہ علاقہ دیہاتوں کے اندر میو دنیا کا منظر پیش کرتا ہے۔ مگر قصبات جو تجارتی اور تمدنی مراکز کی حیثیت رکھتے ہیں ان پر تمام تر دوسرے لوگوں کا قبضہ ہے۔ دیہاتوں میں دیکھئے تو میو پیدا کرنے والی قوم نظر آئے گی۔ مگر قصبات میں آکر اس کی حیثیت صرف خرچ کرنے والی قوم کی بن جاتی ہے۔ جی، ٹی روڈ پر پلول کی واحد مسجد ہے۔ یہاں سڑک پر کھڑے ہوں تو مسجد سے ملا ہوا مقبرہ کا بلند و بالا گنبد صاف دکھائی دیتا ہے۔ شاہجہانی طرز تعمیر پر سنگ سرخ کا بنا ہوا یہ گنبد کسی وقت اس علاقہ کی نمایاں ترین عمارت ہوگا۔ مگر آج اس کی ہر جاں ٹوٹ چکی ہے۔ اور اپنے ٹوٹے ہوئے پتھروں کے ساتھ وہ اس حال میں نظر آتا ہے کہ سڑک کے کنارے جدید طرز کی بنی ہوئی عمارتیں ہیں جن میں ہندی اور انگریزی کے شاندار سائن بورڈوں کے نیچے تجارتی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ اور ان کے پیچھے یہ چار سو سالہ گنبد اس طرح خاموش کھڑا ہوا ہے جیسے زبان حال سے کہہ رہا ہو کہ ۔ ۔ ۔ میں اس قوم کا نمائندہ ہوں جو زمانہ سے پیچھے رہ گئی، جو دورِ جدید کی قوتوں کی مالک نہ بن سکی۔ پلول سے میں دلی کی بس میں روانہ ہوا میں کچھ تاجر آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ ذکر یہ تھا کہ آج کل قیمتیں اتنی تیزی سے بدلتی ہیں اور کار و بار میں اتنے غیر یقینی قسم کے انقلابات آتے ہیں کہ سنبھلنا بڑا مشکل ہو تلمہ ہے۔ اس ضمن میں ایک تاجر نے یہ جملہ کہا : " اب کے بگٹے نہیں گے نہیں "

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page