Urdu book · میوات کا سفر

پانچواں سفر

Urdu book, p. 75

By Maulana Wahiduddin Khan

پانچواں سفر ۲۱ دسمبر ۱۹۴۹ء کو میں دہلی سے الور کے لئے روانہ ہوا۔ میرے کمپارٹمنٹ میں میرے سمیت دو مسلمان تھے باقی تمام غیر مسلم تھے۔ درمیانی اسٹیشن پر ایک غیر مسلم مسافر نے پلیٹ فارم سے چائے خریدی۔ پیتے پیتے ٹرین چل پڑی۔ انھیں چائے کی قیمت میں ۲۵ پیسے دینا تھے۔ انھوں نے روپیہ دیا۔ چائے والے نے پیسہ واپس کیا تو معلوم ہوا کہ صرف ۴۰ پیسے واپس کے ہیں۔ یعنی ۲۵ پیسے کے بجائے ۶۰ پیسے لے لائے۔ اب جوں کہ ٹرین تیز ہو چکی تھی اس لئے کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ "فکر نہ کیجئے" دوسرے غیر مسلم مسافر نے کہا "یہاں نہیں تو وہاں تو اس کو دینا ہی پڑے گا؛ ہجزا و سزا کا یہ تصور قطعا اسلامی تھا اس لئے مجھے تعجب ہوا۔ بعد کو گفتگو میں معلوم ہوا کہ وہ کاستھ ہیں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ سرکاری ملازمت کے سلسلے میں جے پور میں قیام ہے۔ ان کے اکثر خیالات مسلمانوں جیسے تھے۔ اپنے والد کے متعلق انھوں نے بتایا کہ اگرچہ انھوں نے مذہب تبدیل نہیں کیا تھا، مگر وہ مسجد میں جا کر نماز پڑھا کرتے تھے اور قرآن پڑھتے تھے۔ پورے کمپارٹمنٹ میں وہ تہذیب اور شرافت میں نمایاں تھے، باوجود یکہ بیوی بچوں کے ساتھ سفر کر رہے تھے مگر عام مسافروں کی طرح ہولڈ ال بچھا کر جگہ گھیرنے کے بجائے خود اور بچوں کو زحمت دے کر دوسرے مسافروں کو جگہ دے رہے تھے۔ وہ اردو اور فارسی بھی پڑھے ہوئے ہیں۔ ان کے والد اور خاندان کے کئی افسر ادارد کے اچھے شاعر تھے۔ دوران گفتگو انھوں نے کہا" میں ہندی کا درودھی نہیں ہوں۔ مگر اردو پڑھنے سے جو تہذیب آتی ہے وہ ہندی سے نہیں آتی۔ زبان کا تعلق تہذیب سے بہت زیادہ ہے: اس مسافر کا نام و پتہ یہ ہے: T.P. Srivastava, E-171/C, Scheme, Jaipur اسی قسم کا ایک تجربہ الور میں ہوا۔ الور میں ہم ایک رکشے پر بیٹھے۔ میں نے رکشے والے سے بات چیت شروع کی۔ معلوم ہوا کہ وہ جاٹ ہے اور سوہن لال نام ہے۔ اس کے گھر پر ۳۰ بیگھہ کھیت ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page