پانچواں سفر
Urdu book, p. 76
By Maulana Wahiduddin Khan
امسال پوری زمین پر چپٹا ہوا ہے۔ تقریباً ایک سومن پیدا دار کی امید ہے۔ اس نے بتایا کہ اس کے صرف ایک چھوٹا بچہ ہے اور کوئی اولاد نہیں۔ " پھر تم رکشا کیوں چلاتے ہو" میں نے سوال کیا۔ اس کے جواب میں اس نے بتایا کہ اس کے گاؤں کے لوگ سب شرابی اور غنڈے ہیں۔ وہ گاؤں میں رہتا ہے تو اس کو بھی اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ چنانچہ وہ شہر چلا آیا اور رکشا چلانا شروع کر دیا۔ جس میں وہ دو روپے رکشا کے مالک کو دینے کے بعد ۵۔ ۷ روپے روز کما لیتا ہے فصل کاٹنے کے وقت گھر جانا ہوتا ہے تو آخری گاڑی سے رات کے وقت جاتا ہوں اور صبح سویرے لوٹ آتا ہوں۔ اس نے بات چیت میں ایمان اور بسم اللہ وغیرہ کے الفاظ اس طرح دہرائے کہ مجھے شبہ پیدا ہوا۔ "جب تم اتنا کرتے ہو تو کبھی کبھی نماز پڑھ لیا کرو" میں نے کہا۔ میرے سوال کے جواب میں اس نے بتایا کہ میرا جی نماز پڑھنے کے لئے بہت چاہتا ہے مگر کوئی سکھانے والا نہیں" "پھر مالک کا نام کس طرح لیتے ہو"۔ میں نے پوچھا۔ "اللہ اللہ کر لیتا ہوں" اس نے کہا۔ ان دو واقعات کو دیکھ کر مجھے خیال ہوا کہ کتنے اللہ کے بندے ایسے ہیں جو اپنے دل کے اندر ایمان کی چنگاری لئے بیٹھے ہیں۔ ٹرین کے مسافر یارکشا کھینچنے والے سے جب میں نے کھیت کو شرع کی تو دھم دگان بھی نہیں تھا کہ وہ ایسے نکلیں گے۔ کاش ان چنگاریوں کو ہوا دے کر شعلہ بنایا جاسکے۔ ۳۱ دسمبر کی دوپہر کو میں الور پہنچا۔ یہاں دیگر اصحاب کے علاوہ مولانا حافظ جمال الدین صاحب اور مولانا عبد الرحیم صاحب سے ملاقات ہوئی۔ آپ دار العلوم العربیہ الاسلامیہ (جودھپور) میں ہی اور استاذ ہیں۔ الور میں ۵ بجے شام کو میو بورڈنگ ہاؤس میں ایک نشست ہوئی جس میں اسکول اور کالج کے طلبہ اور شہر کے کچھ مسلمان اکٹھا ہوئے۔ اس موقع پر میں نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ الور میں ۱۹۷۴ء کے فسادات نے مسلمانوں کو بری طرح برباد کر دیا ہے مگر وسط شہر میں چار بیگھ زمین کے ساتھ میو بورڈنگ جیسے ادارہ کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ سب کچھ لٹنے کے بعد بھی آپ کے پاس ابھی ایک بنیاد باقی ہے۔ میں نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader