پانچواں سفر
Urdu book, p. 77
By Maulana Wahiduddin Khan
کہا کہ میں نے ایک بار نیم کا ایک درخت کٹوایا۔ بظاہر سطح زمین سے اس کا وجود مٹ گیا مگر اگلی برسات میں میں نے دیکھا کہ اس میں کئی نئے درخت نکل آئے ہیں اور نہایت تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ نیم کا تنہ اگر چہ کٹ گیا تھا مگر اس کی جڑیں پھر بھی زمین کے اندر باقی تھیں ۔ ان جڑوں نے زمین سے غذا حاصل کر کے دوبارہ نئی اور زیادہ شاداب زندگی حاصل کر لی۔ میں نے کہا اگر آپ کے اندر حوصلہ اور عمل کا ذوق ہو تو یہ میو بورڈنگ آپ کے لئے اسی قسم کی ایک بنیاد بن سکتا ہے۔ آپ کی محنت اسے پوری میو قوم کا تعلیمی مرکز بنا سکتی ہے۔ یہ ایک جڑ ہے جس سے آپ دوبارہ ایک پورا درخت اگا سکتے ہیں ۔ میں نے کہا مسلمان کو دو چیزوں کی ضرورت ہے۔ ایک خدا سے تعلق دوسرے دنیوی استحکام خدا سے تعلق کے بارہ میں اس علاقہ میں بہت کچھ کام ہو رہا ہے اور ہو رہا ہے مگر مادی استحکام کا خانہ بالکل خالی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس علاقہ میں میو اگر چہ اکثریت میں ہیں مگر یہاں انھیں عزت کا مقام حاصل نہیں ۔ وہ دوسری قوموں کے استحصالی کا سامان بنے ہوئے ہیں ۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ جو یہاں جمع ہیں وہ صرف ایک کام اپنے ذمہ لے لیں اور وہ یہ کہ میو بورڈنگ کو زندہ کریں اور اس کو میواتیوں کے لئے جدید تعلیم کا مرکز بنائیں ۔ اگر یہ کام آپ کر لیں تو گویا آپ نے سارا کام کر لیا۔ الو ر سے شمال کی جانب تارکول کی سڑک وبجے ساگرا اور ریلوژری ہوتی ہوئی چلی چلی گئی ہے۔ اس سڑک پر دو میل چلنے کے بعد ایک بورڈ مسافر کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے جس پر لکھا ہوا ہے : دلمیر میکا نائزڈ ایگریکلچرل فارم یہ چودہری دلمیر خاں کا زراعتی فارم ہے جو سڑک کے دونوں طرف ڈیڑھ سو بیگھ کے رقبہ میں پھیلا ہوا ہے۔ ایک طرف سرسوں کے کھیت سنہری پھولوں کا فرش بچھائے ہوئے ہیں ۔ دوسری طرف آلو کے کھیت زمین پر سبز تختہ کا منظر پیش کر رہے ہیں ۔ تیسری طرف گنے کے کھیت ہرے پاسبان کی طرح کھڑے ہوئے ہیں ۔ یہ سبز دنیا ایک طرف پہاڑی کے دامن میں جا کر ختم ہوتی ہے اور دوسری طرف حدِ نظر تک جا کر آسمان کے نیلے کناروں سے مل گئی ہے ۔ دلمیر خاں ساری کھیتی مشینوں کے ذریعہ کرتے ہیں ۔ ٹریکٹر کا گیریج انھوں نے کھولا تو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader