Urdu book · میوات کا سفر

پانچواں سفر

Urdu book, p. 78

By Maulana Wahiduddin Khan

زیکو سلاو یتیہ کا ٹریکٹر اس کے اندر کھڑا ہوا تھا جس کی پیشانی پر ’’۸۷‘‘ کا نشان ظاہر کر رہا تھا کہ یہ ایک مسلمان فارمر کا ہے۔ دلمیر خاں کو الور میں نمبر ایک کسان کا تمغہ ملا ہے۔ انھوں نے حال میں جیپ خرید لی ہے اور اب اپنے فارم پر ٹیلی فون بھی لگوانے والے ہیں۔ میں چند گھنٹہ دلمیر خاں کے ساتھ رہا۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ اگر چہ معمولی تعلیم یافتہ میو ہیں۔ مگر فطرتاً غیر معمولی صلاحیت کے آدمی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ وہ سب کو ایک قسم کی صلاحیت دیکر پیدا فرماتا ہے۔ کسی سماج میں اعلیٰ صلاحیت کے کسی فرد کا پیدا ہونا اللہ تعالیٰ کی خصوصی نعمت ہوتی ہے۔ ایک اعلیٰ صلاحیت کا آدمی پوری بستی بلکہ پورے علاقہ کو سنبھالنے کے لئے کافی ہے۔ قدرت ہم کو ایسے بہترین افراد دیتی ہے مگر بدقسمتی سے یہ افراد عام طور پر اپنی صلاحیتوں کو صحیح سمت میں استعمال نہیں کرتے۔ یہ لوگ اپنی اعلیٰ فطری صلاحیتوں کا بہترین مصرف یہ سمجھتے ہیں کہ کسی کو قتل کر دادیں، کسی کا کھیت کٹوا دیں، کسی کو مقدمہ بازی میں الجھا کر اس کا گھر بار یکوا دیں۔ موجودہ زمانہ میں الیکشن اور لیڈرمی نے ایسے لوگوں کو اپنے ذوق کی تسکین کے لئے نئے مواقع فراہم کر دیئے ہیں۔ کتنے تعلیم یافتہ اور اعلیٰ ترین صلاحیت والے لوگوں کا حال یہ ہے کہ سیاسی اکھاڑے بازی میں وہ اپنی ساری عمر ضائع کر دیتے ہیں اور اس وقت سے پہلے انھیں ہوش نہیں آتا جب تک لا حاصل جد وجہد کا یہ آخری انجام ان کے سامنے نہ آجائے کہ سیاست کا سر ان کے ہاتھ سے نکل گیا ہو۔ دلمیر خاں کی یہ بات مجھے بے حد پسند آئی کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں جو اعلیٰ صلاحیتیں دی تھیں ان کو انھوں نے دادا گیری اور لیڈرمی میں ضائع نہیں کیا بلکہ ان کو تعمیری کام میں لگایا۔ ان کو وراثت میں جو زمین ملی تھی وہ بہت کم تھی۔ انھوں نے زمینیں حاصل کرنا شروع کیں۔ یہاں تک کہ وہ موجودہ فارم کے مالک بن گئے۔ انھوں نے اس علاقہ میں بجلی منگوائی۔ وہ بس اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کے لئے بھی بہترین کام والے بن گئے ہیں۔ جو شخص دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر اپنی تعمیر کے کام میں لگتا ہے، اس سے زیادہ سماج کا مفید عنصر اور کوئی نہیں ۔ الور سے ۸ میل کے فاصلہ پر راجہ کا ایک چھوٹا سا محل ہے جو کسی رانی کے لئے بنوایا گیا تھا اس کا نام سیلی سیڈھ (Siliserh) ہے اور اب وہ ریاستی حکومت کے تحت سیاحوں کے لئے ہوٹل کا کام دیتا ہے ۔ یہ پورا راستہ پہاڑ کے کنارے کنارے نہایت خوش منظر وادیوں سے گزرتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page