Urdu book · میوات کا سفر

پانچواں سفر

Urdu book, p. 79

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ سیلی سیڈ (راجستھان اسٹیٹ ہوٹل) کے تین طرف جھیل ہے اور پہاڑیاں کھڑی ہوئی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فطرت کی حسین دنیا میں انسان نے اپنے لئے ایک رہائش گاہ کی جگہ ڈھونڈ لی ہے۔ چند گھنٹے یہاں کے پرفضا ماحول میں گزار کر ہم دوبارہ الور واپس آگئے۔ الور اور سیلی سیڈ کے درمیان آٹھ میل کا سفر بڑا پرکیف تھا شتاب خاں (ایڈوکیٹ) اپنی نئی جیپ کو خود ڈرائیو کر رہے تھے، تارکول کی چکنی سڑک اور دونوں طرف پہاڑی کے دامن میں سر سبز مناظر، اس نے ہمارے سفر کو سیاحوں کی روایتی دنیا کا سفر بنا دیا۔ تھوڑی دیر کے لئے ایسا محسوس ہوا کہ فطرت کے خاموش حسن میں زندگی کے تلخ حقائق گم ہو گئے ہیں۔ مگر چند گھنٹے بعد جب میں اس دنیا سے واپس لوٹا تو دوبارہ میرے سامنے وہی منظر تھا۔ سوکھے ہوئے چہروں کے ساتھ اپنے میلے جسموں پر معمولی کپڑے لپیٹے ہوئے ممیو، اور پھر ان کے بچے جو خاموش اور معصوم صورتیں لئے ہوئے اس طرح بے زبان چلتے پھرتے نظر آتے ہیں جیسے انہیں ماضی، حال، مستقبل کسی چیز کی خبر نہ ہو۔ آہ یہ مناظر دیکھ کر میرا کلیجہ پھٹ جاتا ہے۔ سیکڑوں برس سے یہ قوم اسی حالت میں پڑی ہوئی ہے اور آج بھی کوئی نہیں ہے جو یہ بتائے کہ زمین کے نقشہ میں اپنی جگہ حاصل کرنے کے لئے اسے کیا کرنا چاہئے۔ الور میں داؤد پور میری قیام گاہ تھی۔ یہاں بدستور وہی منظر تھا جو اس سے پہلے میں بار بار دیکھ چکا ہوں۔ ریلوے کے کنارے وہ نامکمل مسجد کھڑی ہوئی تھی جو الور کی منہدم شدہ مساجد میں پہلی مسجد ہے۔ جس کے اوپر ۱۹۶۱ء کے بعد دوبارہ دیوار اور چھت کھڑی کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ میرے سامنے وسیع احاطہ کے اندر ایک نامکمل تعمیر کھڑی ہوئی تھی اور اس کے صحن میں ایک مفلوج شخص بدستور حسرت بھری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ یہ مولانا محمد ابراہیم الوری (سابقی ایم۔ ایل۔اے) تھے۔ اس علاقہ کا ہر شخص جانتا ہے کہ تین سال پہلے مولانا محمد ابراہیم" اس علاقہ کا سب سے زندہ اور فعال نام تھا۔ ۱۹۶۱ء کی غارت گری کے بعد اس علاقہ میں مسلمانوں کی دوبارہ بحالی کا جو کام ہوا ہے وہ زیادہ تر مولانا ہی کے ہاتھوں اور انہیں کی سرکردگی میں ہوا ہے۔ مولانا بلا مبالغہ اس علاقہ کے شیر تھے اور نہ صرف عوام بلکہ مہاراجہ اور فطر سب سے اپنی بات منوانے کا حوصلہ رکھتے تھے۔ ۱۲ فروری ۱۹۶۱ء کو ایک انتخابی تقریر میں اچانک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page