پانچواں سفر
Urdu book, p. 80
By Maulana Wahiduddin Khan
فالج کا حملہ ہوا اور اس کے بعد سے وہ بے دست و پا ہو کر پڑے ہوئے ہیں۔ مولا نا ابراہیم اگر اپنی قوتوں کے ساتھ صحت مند ہوتے تو اس طرح کی کتنی مسجدیں محض اپنے ذاتی بل بوتے پر بنوا چکے ہوتے لیکن اب وہ نہ ٹھیک سے بول سکتے ہیں اور نہ چل پھر سکتے ہیں۔ وہ حسرت کی تصویر بنے ہوئے داؤدپور کی نامکمل مسجد کو دیکھتے رہتے ہیں مگر بس نہیں چلتا کہ اس کے لئے کچھ کر ڈالیں ۔ اس مسجد کی نئی تعمیر اکتوبر ۱۹۷۹ء میں شروع ہوئی تھی۔ اس وقت سے اب تک تقریباً ساڑھے چھ ہزار روپے اس پر خرچ ہو چکے ہیں۔ قوم اگر تعاون کرتی تو اب تک ایک نئی مسجد اسلامی شان و شوکت کو ظاہر کرنے کے لئے یہاں کھڑی ہو چکی ہوتی ۔ مگر دماغوں کے نقشے دماغوں میں رہ گئے اور کام مکمل نہ ہو سکا۔ اگر یہ مسجد مکمل ہو جائے اور اس کے وسیع احاطہ میں ایک مدرسہ بنا دیا جائے تو یہ جگہ الور میں اسلام کی تعمیر نو کا مرکز بن سکتی ہے۔ مگر یہ کام ہو تو کیسے ہو جبکہ موجودہ دور میں اسلام کی وراثت ایک ایسی قوم کے حصہ میں آئی ہے جو بس دوسروں کے خلاف فریاد و فغاں کرنا جانتی ہے اس نے اپنے وسائل کو مفید کاموں میں استعمال کرنا نہیں سیکھا۔ الور کے شمال مشرقی حصہ میں ایک انتہائی قدیم اونچی عمارت ہے ۔ یہ فتح جنگ کا مقبرہ ہے جو ہمایوں کی فوج میں سپہ سالار تھا۔ اس عظیم عمارت کے چاروں طرف احاطہ کی دیوار سے متصل چھوٹے چھوٹے کمرے بنے ہوئے ہیں جن کی مجموعی تعداد ۴۳ ہے ۔ کارپوریشن نے آثار قدیمہ سے اجازت لے کر یہاں ایک پرائمری اسکول کھول دیا ہے۔ طلبہ کی تقریباً تین سو تعداد میں ایک مسلمان ہے ۔ یہ دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ ہمارا وقف بورڈ اگر اسی طرح قدیم عمارتوں کو اسکول کی مدیں استعمال کرے تو ان کے ذریعہ ملت کی تعمیر کا کتنا بڑا کام ہو سکتا ہے۔ میں اس چھ منزلہ گنبد کے بالکل اوپر چڑھ گیا۔ ٹوٹی ہوئی سیڑھیاں اور شکستہ دیواروں سے گزر کر جب ہم اوپر پہنچے تو پہاڑی کے دامن میں پھیلا الور شہر ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے وہ ہمارے قدموں کے نیچے آباد ہو۔ مقبرہ کی شکستہ عمارت کے اوپر ہم سب سے بالنظر آتے ہیں مگر اس کے نیچے حقیقی زندگی میں ہمارا کوئی مقام نہیں ۔ بنانے والوں نے اگر مقبروں کی تعمیر کے بجائے زندگیوں کی تعمیر کی ہوتی تو جہاں آج مقبرے نظر آتے ہیں وہاں زندگی اور اقبال مندی کے منارے کھڑے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader