پانچواں سفر
Urdu book, p. 81
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوتے۔ مگر ماضی کی غفلتوں نے ہمارا یہ حال کیا ہے کہ زندگی کے میدان تو درکنار قبرستان کے گوشے بھی ہمیں جگہ دینے کے لئے تیار نہیں۔ چار سو برس پرانے اس عظیم مقبرہ کے احاطہ میں ایک چھوٹی سی مسجد تھی جو 1947ء کے ہنگامہ میں مکمل طور پر ڈھادی گئی ہے اور اب صرف اس کا ٹوٹا ہوا چبوترا اور گری ہوئی دیواروں کے نشانات ہیں جو دیکھنے والوں کو یاد دلاتے ہیں کہ یہاں کبھی مسجد کھڑی ہوئی تھی۔ فسادیوں نے مسجد گرا دی مگر عظیم مقبرہ کو باقی رکھا۔ شاید انہیں معلوم تھا کہ مسجد زندگی کا مرکز ہے جب کہ مقبرہ صرف مردہ کی آماج گاہ ہے جس سے کسی حرکت اور انقلاب کا کوئی خطرہ نہیں۔ مولانا جمال الدین صاحب کی معیت میں الور شہر کی مساجد اور اسلامی آثار دیکھنے کا موقع ملا۔ ہم چلتے ہوئے الور کے ایک گنجان اندرونی محلہ دھوبی پاڑہ میں پہنچے، یہاں وہ مکان اب بھی موجود ہے جس میں مولانا رکن الدین صاحب رحمتہ اللہ علیہ قیام فرماتے تھے۔ اور داؤد پور کی مسجد کے بعد یہیں وہ 80 سالہ قدیم مسجد بھی ہے جو الور کی تقریباً ایک سو مسجدوں کے خاتمہ کے بعد یہاں کی واحد مسجد کے طور پر باقی رہ گئی ہے۔ ہم سڑک پر کھڑے ہوئے ایک ایسی شکستہ عمارت کا منظر دیکھ رہے تھے جس کے سامنے کی دیواریں اور منارے گرادیئے گئے ہیں۔ مگر مسجد کا اصل حصہ اپنے محراب تما دروازوں کے ساتھ بدستور موجود ہے۔ اتنے میں اندر سے ایک سفید ریش ریفیوجی برآمد ہوئے ۔ یہ اس مسجد میں رہائش پذیر ہیں۔ اور ان کے بیان کے مطابق وہ وقف بورڈ کو پانچ روپیہ مہینہ کرایہ ادا کرتے ہیں ۔ ”یہ کیا ہے سردار صاحب“ میں نے پوچھا۔ ”مسجد ہے“ ”اگر ہم یہاں نماز پڑھ لیں تو آپ کو کوئی اعتراض تو نہ ہوگا“ ”نہیں ۔ شوق سے پڑھئے!“ یہ جنوری 1970ء کی پہلی تاریخ تھی اور اس وقت شام کے سوا چار بجے تھے۔ سردار جی ، جن کا نام سہیل سنگھ ہے اور بہاول پور سے آکر 33 برس سے یہاں مقیم ہیں۔ انھوں نے ”مسجد“ کے صحن میں ایک چادر بچھائی اور میں نے مولانا جمال الدین صاحب کی امامت میں وہاں عصر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader