پانچواں سفر
Urdu book, p. 82
By Maulana Wahiduddin Khan
کی نماز پڑھی۔ غالباً ۱۹۷۰ء کے ہنگامہ کے بعد یہ پہلا سجدہ تھا جو اس مسجد میں کیا گیا ۔ سہیل سنگھ ایک معمر آدمی تھے ۔ انھوں نے بتایا کہ وہ حکیم ہیں اور اردو پڑھے ہوئے ہیں ۔ انھوں نے بخوشی ہمیں مسجد کے صحن میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ۔ دوڑ کر وضو کا پانی لائے ۔ جائے نماز کے لئے ایک صاف چادر لا کر بچھائی ۔ چائے کے لئے اصرار کیا جس سے ہم نے انھیں باصرار باز رکھا ۔ مجھے غیر مسلموں سے ملاقاتوں میں اکثر یہ اندازہ ہوا ہے کہ ان میں جو لوگ اردو پڑھے ہوئے ہیں وہ عموماً بے تعصب ہوتے ہیں اور ان میں بھائی چارہ کی کیفیت بہت زیادہ ہوتی ہے ۔ میں نے دیکھا تو تین دروں کی اس مسجد میں اوپر وسط میں ایک کتبہ لگا ہوا تھا جس پر جلی حرفوں میں حسب ذیل قطعہ لکھا ہوا تھا : محنت صبح و مساے حاجی عبد اللہ نے کی بنائے یادگار مسجد اہل حدیث سال میں تعمیر کے جب فکر شاداں میں نے کی بولا ہاتف خوب ہے یہ مسجد اہل حدیث ۱۳۱۲ھ محلہ دھوبی پاڑہ کی اس مسجد پر میونسپلٹی کی طرف سے ۳۸۴ نمبر پڑا ہوا ہے ۔ ”کیسی عجیب بات ہے“ میں نے کہا ”کہ وہ شہر جہاں سو مسجدیں مکمل طور پر ڈھا دی گئی ہیں، وہاں ایک مسجد اب بھی صحیح و سالم کھڑی ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بے حد اخلاص کے ساتھ بنائی گئی تھی “۔ میرے اس تاثر کو سن کر مولانا جمال الدین صاحب نے ایک شعر پڑھا جو بے حد حسب حال تھا : کمند گردش ایام کے اسیر نہیں نقوش دست عقیدت فناپذیر نہیں الوریٰ اس واحد مسجد میں ۳۲ برس بعد پہلی بار سجدہ کرنے کا دل پر بڑا اثر تھا ۔ مولا نا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader