پانچواں سفر
Urdu book, p. 83
By Maulana Wahiduddin Khan
جمال الدین صاحب کے ہاتھ میں دیوانِ حافظ تھا۔ انھوں نے عارف شیرازی سے فال نکالی تو یہ شعر نکلا : از آن ما که فتنهٔ چشمَت بهار رسید ایمن ز شرِ فتنهٔ آخر زمان شدم آپ الور میں کسی واقف کار کے ساتھ گھومیں تو جگہ جگہ آپ کو نہایت عبرت ناک خبریں سننے پڑیں گی ۔ کہیں آپ دیکھیں گے کہ دور تک شاندار دو منزلہ عمارتیں کھڑی ہوئی ہیں ۔ آپ کا ساتھی بتائے گا کہ یہاں پہلے کر بلا اور مسجد تھی ۔ کہیں پارک اور اشوک کی لاٹ تو تعمیر سڑک کا حسن دو بالا کر رہی ہوگی اور بتانے والا آپ کو بتائے گا کہ یہاں بھی پہلے ایک مسجد کھڑی ہوئی تھی ، اسی طرح کتنے اسکول ، کتنے مارکیٹ ، کتنے مندر ، کتنے مکان اور کتنی نئی تعمیرات نئے لورڈوں کے ساتھ نظر آئیں گی اور بتایا جائے گا کہ یہ سب مسجدوں کو ڈھاکرا ان کی جگہ بنوائے گئے ہیں۔ حتیٰ کہ بعض مقامات پر ایسے آخری نشانات بھی ملیں گے جو بول رہے ہوں گے کہ یہاں پہلے کیا تھا اور اب کیا ہو گیا ہے ۔ " آزادی سے قبل ہندوستان دنیا کی نظر میں سیہ اور اہنسا کا نشان تھا “ میں نے سوچا اندازہ کرنے والے اندازہ کر رہے تھے کہ آزاد ہونے کے بعد ایشیا کا یہ عظیم ملک پورے ایشیا کا قائد ہوگا۔ مگر آزادی کے ۲۳ ویں برس بھی ملک زبر دست تنزل کا شکار ہے ۔ سارے ملک کا یہ حال ہو رہا ہے کہ کوئی شخص ملک اور قوم کا وفادار نہیں ۔ سب اپنے اپنے اغراض کے لئے ملک کے جہاز میں سوراخ کر رہے ہیں۔ وہ ملک جو نہ صرف ایشیا بلکہ دنیا کا قائد بننے کا خواب دیکھ رہا تھا وہ خود اپنے ملکی مسائل کو بھی حل نہ کر سکا ۔ آزادی نے اس ملک کو زبر دست امکانات عطا کئے تھے ۔ وسیع جغرافیہ ، بے پناہ قدرتی وسائل ایک نہایت باشعور اور محنتی قوم ۔ مگر ان میں سے کوئی چیز اس کے کام نہ آئی۔ اور ملک کا یہ حال ہے کہ وہ تیزی سے بد ترین انتشار اور بر بادی کی طرف چلا جا رہا ہے ۔ نفرت اور ظلم کی بنیاد پر جو عمارت کھڑی کی گئی ہو اس کا واحد آخری انجام بر بادی ہے ، خواہ اس کی تعمیر میں کتنی ہی مضبوط اور قیمتی اینیٹس استعمال کی گئی ہوں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader