Urdu book · میوات کا سفر

پانچواں سفر

Urdu book, p. 84

By Maulana Wahiduddin Khan

یکم جنوری ۷۹ء کی رات ہم نے الور میں گزاری۔ صبح ہم بجے آنکھ کھلی تو اللہ اللہ اور لا الہ الا اللہ کی پر کیف آوازیں آرہی تھیں۔ میرے ساتھی مولانا مفتی جمال الدین صاحب اور مولانا عبد الرحیم صاحب تہجد کے وقت ذکر با لجبہ کر رہے تھے۔ دل نے کہا جو سفر اذکار اور عبادت کے جلو میں ہو رہا ہو وہ ضرور با برکت اور نافع ہوگا۔ اور میں اپنے رب سے اسی کی امید رکھتا ہوں ۔ فجر کی نماز میں مولانا مفتی جمال الدین صاحب نے سورہ حاقہ اور سورہ انفطار کی تلاوت کی ۔ اس کو سن کر دل کی عجیب کیفیت ہو گئی۔ ظالموں کا انجام سن کر بدن کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ پھر اہل ایمان کے انعامات کو سن کر حرص پیدا ہوئی کہ اللہ تعالیٰ ہم کو بھی ان خوش قسمت بندوں میں شامل فرمائے۔ ۲ جنوری کی صبح کو ہم الور سے گوبند گڑھ کے لئے روانہ ہوئے ۔ الور ۔ بھر ت پور روڈ پر ہماری بس آگے بڑھی تو ایک مقام پر عجیب منظر نظر آیا۔ یہاں سڑک انگریزی حرف ایس کی شکل میں ٹیڑھی ہو کر آگے کو جارہی تھی ۔ معلوم ہوا کہ یہاں سڑک سیدھی لے جانے میں درمیان میں ایک بستی پڑتی تھی جس کا نام ٹنگڑٹ ہے۔ ٹنگڑٹ کے لوگ بگڑ گئے۔ انھوں نے کہا کہ ہم اپنی زمین سے سڑک جانے نہیں دیں گے۔ چنانچہ سڑک کو غیر ضروری طور پر گھما کر لے جانا پڑا۔ اس سے اندازہ کیجئے کہ اس علاقہ کے لوگ ابھی کتنے پیچھے ہیں۔ انھیں نہیں معلوم کہ سڑک کتنی قیمتی چیز ہوتی ہے۔ سفر کی آسانی ، چیزوں کو لانے لے جانے کی آسانی کے علاوہ جس گاؤں سے سڑک گزرتی ہے وہ جگہ گاؤں سے ترقی کر کے بازار کی حیثیت حاصل کر لیتا ہے۔ وہاں کے باغات اور کھیتوں کی پیداوار کی قیمت بڑھ جاتی ہے، کیونکہ ٹرانسپورٹ کا معاملہ آسان ہو جاتا ہے ۔ سڑک کے ذریعہ جدید تمدن کی آسانیاں وہاں پہنچنا شروع ہو جاتی ہیں۔ مگر یہ لوگ ابھی اسی قدیم دنیا میں ہیں جب وہ پیدل سفر کرتے تھے ، ان کے ذہن قدیم روایتی ڈھانچہ میں اس طرح بندھے ہوئے ہیں کہ وہ نئے زمانہ کی چیزوں کو سمجھ نہیں سکتے۔ حالانکہ سڑک اب نئے زمانہ کی کوئی چیز نہیں رہی ۔ وہ اب سینکڑوں برس پرانی ہو چکی ہے۔ مگر یہ لوگ شاید سینکڑوں برس سے بھی پہلے ہزاروں برس پہلے کی دنیا میں رہتے ہیں انھیں قریبی ماضی تک کی خبر نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page