Urdu book · میوات کا سفر

پانچواں سفر

Urdu book, p. 85

By Maulana Wahiduddin Khan

جالوکی ، الور _ بھرت پور روڈ پر ایک چوراہا ہے ، یہاں سے ہمیں بس چھوڑ کر اسکوٹر کے ذریعہ چار میل جانا تھا ۔ " کیا کوئی جماعت ہے ؟ " ہم تین داڑھی والوں کو دیکھ کر اسکوٹر کے غیر مسلم ڈرائیور نے کہا ۔ یہاں تبلیغی جماعتوں کی آمد و رفت کی وجہ سے عام طور پر لوگ " جماعت " سے واقف ہیں ۔ اس سے اندازہ کیجیے کہ یہاں تبلیغ کا کتنا زیادہ کام ہوا ہے ۔ جالوکی سے ہم گو بند گڑھ پہنچے ۔ گو بند گڑھ کی آبادی تقریبا پانچ ہزار ہے جس میں تقریباً ایک سو مسلمان بستے ہیں ۔ مسلمانوں کا ذریعہ معاش زراعت ہے یا بعض معمولی قسم کی تجارتیں ۔ یہاں ایک مدرسہ ہے جس کا نام ہے مدرسہ زینت العلوم - صدر مدرس مولانا قاری عبد الرحمن صاحب ہیں ۔ طلبہ کی تعداد ۳۰ اور اساتذہ کی تعداد ۲ ہے ۔ یہ مدرسہ ۱۹۶۰ ھ سے قائم ہے ۔ مٹی کی نا ہموار دیواروں کے اوپر ایک اجڑا ہوا سا پھپر پٹ ہوا ہے ۔ بس اسی کا نام زینت العلوم ہے ۔ دو کوٹھڑیاں جو قدیم طرز کے ڈربہ سے زیادہ مشابہ ہیں ، یہی اس مدرسہ کا گو دام ، مطبخ ، اساتذہ اور طالب علموں کی رہائش گاہ سب کچھ ہے ۔ ایک طالب علم (۱۳ سال ) کو میں نے نمونہ کے طور پر بلایا ۔ یہ حافظ کا طالب علم ہے اور ۱۲ پارے حفظ کر چکا ہے ۔ میں نے کہا کہ چند آیتیں پڑھ کر سناؤ ۔ بار بار کہنے کے بعد اس نے تبارک الذی شروع کی ۔ مگر ایک آیت سے آگے نہ پڑھ سکا ۔ میں نے محسوس کیا کہ طلبہ پر احساسِ کمتری اتنا زیادہ مسلط ہے کہ کسی اجنبی کے سامنے چند جملے بول بھی نہیں سکتے ۔ یہیں آکر احساس ہوتا ہے کہ اقتصادیات کا بہت گہرا تعلق اخلاقیات سے ہے ۔ یہ لڑکے اگر فارغ البالی گھرانوں سے نکل کر آئے ہوتے اور یہاں ایک اچھی قائم شدہ درس گاہ ان کی تعلیم کے لئے موجود ہوتی تو ان کا حال دوسرا ہوتا ۔ یہاں مدرسہ سمپلہ خورد کے ایک مدرس سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے بڑے جوش سے یہ بات کہی کہ میوات میں جتنے مدرسے چل رہے ہیں ہر ایک میں صرف پڑھنے کا انتظام ہے " کالی میں بھی لکھنا نا سکھایا جاوے ۔ " لوگ پڑھ پڑھ کر فارغ ہو جاتے ہیں ۔ مگر انھیں ایک خط پڑھنا نہیں آتا ۔ " آپ بھی تو ایک مدرسہ میں استاد ہیں " میں نے کہا ۔ " پھر کیا آپ کے مدرسہ میں لکھنا سکھا یا جاتا ہے ۔ "

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page