پانچواں سفر
Urdu book, p. 86
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں “ انھوں نے فوراً کہا ” میں خود لکھنا نہیں جانتا ، پھر بچوں کو کیا سکھاؤں “ ” پھر آپ یہ کیجیے کہ سب سے پہلے خود اس پر عمل کیجیے “ میں نے کہا ” آپ خود لکھنا سیکھیے اور پھر اپنے مدرسہ میں لکھائی کا کام شروع کر دیجیے ۔ “ اس کے جواب میں انھوں نے اپنی جیب سے ڈائری نکالی اور دکھایا کہ انھوں نے یہ جدوجہد شروع کر دی ہے ۔ ان کی ڈائری میں پنسل سے مختلف قسم کے جملے لکھے ہوئے تھے ۔ ۳ جون کے صفحے پر درج تھا : ” اس وقت رسید خرید میں حاضری ہوں “ یہ یہاں کے ایک مدرسہ کے استاد کی تحریری لیاقت تھی۔ اس کے علاوہ یہاں کے مدارس میں بلکہ تمام ہندوستان کے ابتدائی اسلامی مدارس میں ایک اصلاح کی شدید ضرورت ہے ۔ ان مدارس میں عام طور پر قرآن ( حافظ و ناظره ) اردو اور دینیات پڑھائی جاتی ہے ۔ اس کے ساتھ ضروری ہے کہ ہندی اور حساب وغیرہ کو بھی اس حد تک داخل نصاب کر لیا جائے کہ ان مدارس سے فارغ ہو کر طالب علم کا داخلہ با آسانی اسکول کے ساتویں آٹھویں درجہ میں ہو سکے ۔ ہم اپنی نئی نسل کو اسکولوں میں جانے سے نہیں روک سکتے ۔ اس لئے ہمیں کم از کم یہ کرنا چاہئے کہ ان کو ابتدائی دینی تعلیم سے مسلح کر کے اسکول کی دنیا میں پہنچائیں ۔ گوبنڈ گڑھ میں نماز جمعہ کے وقت مسجد میں کافی مجمع ہو گیا تھا ، مجھ سے تقریر کی فرمائش کی گئی ۔ میں نے دو باتوں کی طرف توجہ دلائی ۔ ایک ایمان کی حقیقت ، دوسرے تعلیم کی اہمیت ۔ حدیث ذاق طعم الایمان من رضی باللہ ... الکو یاد دلاتے ہوئے میں نے کہا کہ ایمان ایک مزہ ، ایک کیفیت ہے اور حقیقی معنوں میں صاحب ایمان وہی ہے جس کے لئے وہ مزہ اور لذت کی چیز بن جائے ۔ میں نے کہا کہ یہ عمل کا ابتدائی درجہ ہے کہ ” ایک کام کے لئے حکم دیا جائے اور آپ اسے کر دیں ۔ مگر اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ آپ عمل میں لطف ولذت محسوس کرنے لگیں ۔ اگر آپ کا حال یہ ہو کہ جب اسلام کسی عمل کا حکم دے تو وہاں خاندانی طریقہ آپ کے لئے رکاوٹ بن جائے ۔ آپ کی عادت آپ کو باز رکھے ۔ کسی فائدہ کا خیال آپ کو اس سے روک دے ، رسم و رواج کی بنا پر آپ اس کو اختیار نہ کر سکیں ۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عمل کا پہلا درجہ بھی آپ کو حاصل نہیں ہوا ۔ جب کہ اعلیٰ ایمانی درجہ تو یہ ہے کہ آپ ذوق اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader