پانچواں سفر
Urdu book, p. 87
By Maulana Wahiduddin Khan
سرور کے تحت اس کی طرف دوڑ پڑیں ۔ اس کے بعد میں نے کہا کہ دوسری چیز جس کی طرف میں آپ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ تعلیم کا مسئلہ ہے میں نے کہا کہ میں آپ کی بستی میں پہلی بار آیا ہوں ۔ یہاں مجھے آپ کے اس مدرسہ میں ٹھہرایا گیا جو سی مسجد کے پڑوس میں واقع ہے ۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے ۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ مدرسہ ہے ۔ یہ دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوا ، ایک بڑے مفکر کا قول ہے ۔ ” کسی قوم کے مستقبل کو دیکھنا ہو تو اس کی تعلیم گاہ کو دیکھو “ اس اعتبار سے جب میں اس جھونپڑے پر نظر ڈالتا ہوں جو یہاں آپ نے مدرسہ کے نام سے قائم کر رکھا ہے تو مجھے آپ کے مستقبل کے بارے میں بہت مایوسی ہوتی ہے ۔ میں نے کہا کہ مدرسہ میں آپ کی وہ نئی نسل تیار کی جاتی ہے جو آپ کے مستقبل کی تعمیر کرنے والی ہے اب غور کیجئے کہ جو نوجوان ان جھونپڑوں میں سسک رہے ہیں وہ یہاں سے کیا سبق لے کر جائیں گے اور قوم کے اندر کیا کام کریں گے ۔ شام کو میں گوبند گڑھ سے نکلا تو باہر ایک شاندار پختہ عمارت کھڑی ہوئی تھی ۔ معلوم ہوا کہ یہ یہاں کا ہائر سیکنڈری اسکول ہے ۔ اس میں ۱۲ سو طالب علم تعلیم پا رہے ہیں اور تقریباً ۳۰ درین اساتذہ کام کر رہے ہیں ۔ گوبند گڑھ میں اس کے علاوہ دولت لڑکیوں کے اسکول ، ایک مڈل اسکول اور متعدد پرائمری اسکول ہیں ۔ ایک طرف قصبہ کا اسلامی مدرسہ ہے جس کو صرف جھونپڑے میں جگہ ملی ہے ۔ دوسری طرف زمانہ کی تعلیم کے ادارے ہیں جو عالی شان عمارتوں میں قائم ہیں ۔ یہ نسبت جو دو طرز تعلیم کے درود دیوار میں نظر آتی ہے یہی اس علاقہ کی دو قوموں میں موجود ہے ۔ مسلمان یہاں دوسروں سے اتنا ہی پیچھے ہیں جتنا ہائر سیکنڈری اسکول کی پرشوکت عمارت کے مقابلہ میں ان کا وہ مدرسہ جس نے ایک معمولی جھونپڑی میں پناہ لے رکھی ہے ۔ گوبند گڑھ میں چار مسجدیں تھیں جو سب کی سب ۱۹۱۶ء میں مسمار کر دی گئیں ۔ تین مسجدیں اب بھی اس حالت میں ہیں کہ ان کی ٹوٹی ہوئی دیواریں اپنے چاروں طرف پتھر کے ڈھیر لئے ہوئے پڑی ہیں ۔ البتہ بستی کے کنارے کی ایک مسجد کو از سر نو تعمیر کر لیا گیا ہے ۔ یہ نو تعمیر مسجد کافی شان دار ہے اس کو دیکھ کر خیال آیا کہ مسلمانوں نے جس طرح پرانے کھنڈر پر یہ نئی مسجد کھڑی کر لی ہے ، کاش اسی طرح ان کے اندر اپنی پوری لٹی ہوئی زندگی کو از سر نو تعمیر کرنے کا ذہن پیدا ہو سکے ۔ گوبند گڑھ کی مسجد میں نماز جمعہ کے بعد مشہور تبلیغی بزرگ میاں جی موسیٰ کی تقریر ہو رہی جو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader