Urdu book · میوات کا سفر

پانچواں سفر

Urdu book, p. 88

By Maulana Wahiduddin Khan

مولانا الیاس صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے ابتدائی ساتھیوں میں ہیں۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ میو قوم کی ہدایت پہلے یہ تھی کہ اس کو سب لنگور کہتے تھے ۔ اس کے بعد ان میں تبلیغ پھیلی اور انھوں نے اس کو بڑھ بڑھ کر قبول کیا۔ تبلیغ کی برکت سے ان کا یہ عالم ہو کہ لوگ کہنے لگے کہ موجودہ زمانہ میں صحابہ کو دیکھنا ہو تو میو قوم کو دیکھو۔ آج دنیا بھر کے لوگ میوؤں کو دیکھنے کے لیے یہاں آتے ہیں۔ کیا یہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ دین سے بڑائی آتی ہے۔ اس کے بعد انھوں نے کہا کہ میو قوم دنیا کو آگے بڑھا کر اب خود پیچھے ہٹ رہی ہے حالانکہ اب تو اس کی محنتوں کے پھل کھانے کا وقت آیا تھا۔ سفر کے آخری مرحلہ میں، میں نے ایک شب ”نصیر باس“ میں گذاری۔ رات کے آخری حصہ میں اٹھ کر بستی کی نئی تعمیر شدہ مسجد میں گیا تو وہاں دیکھا کہ کئی لوگ فجر سے پہلے تہجد پڑھنے میں مشغول ہیں ۔ یہ منظر میوات میں عام طور پر نظر آتا ہے ۔ میرا خیال ہے کہ میوات میں کسی بھی علاقہ کے مقابلہ میں ایسے لوگ زیادہ ملیں گے جو روزانہ تہجد کی نماز ادا کرتے ہیں۔ اکثر مساجد میں فجر سے پہلے آبادی ہو جاتی ہے۔ گو بند گڑھ سے ہم بیل گاڑی پر روانہ ہوئے جس کو یہاں کی مقامی زبان میں ”چھیپری“ کہتے ہیں ۔ لکڑی کا ایک عجیب الخلقہ ڈھانچہ چناچہ دو عجیب الخلقت پہیوں کے اوپر رکھا ہوا تھا۔ آگے دو بیل اس کو لئے ہوئے دوڑ رہے تھے۔ اسی کا نام یہاں کی زبان میں چھیپری گاڑی ہے۔ اس کے اوپر ہم اس طرح بیٹھے ہوئے تھے جیسے کوئی لکڑی کے اونٹ پر سوار ہو۔ یہ گاڑی غالباً اتنی ہی پرانی ہے جتنی خود میو قوم ۔ جس طرح میو قوم میں زمانہ کے فرق سے کوئی تبدیلی نہیں آئی اسی طرح یہ گاڑی بھی زمانہ کی تمام تبدیلیوں سے بالکل بے نیاز ہے۔ یہ گاڑی اپنے سواروں کو لئے ہوئے بدستور ان خام راستوں پر رینگ رہی ہے جو گرد کی کثرت سے ”خشک دلدل“ کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ ان کے سر پر کبھی کبھی گھڑ گھڑاتا ہوا ہوائی جہاز تیزی سے نے دور کا پیغام دیتا ہوا گزر جاتا ہے۔ مگر وہ اس کو اس طرح دیکھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں جیسے کوئی بچہ اتری ہوئی چڑیا پر ایک نظر ڈالے اور پھر اپنے کھیل کو دیں مشغول ہو جائے ۔ الگھانی سے چلتے ہوئے راستہ میں ہم سرسوں کے کھیت سے گزرے۔ غیر معمولی طور پر بڑے بڑے پتوں اور درجنوں شاخوں کے ساتھ پھیلے ہوئے درخت میری توجہ اپنی طرف کھینچ رہے تھے ۔ میں ایک کھیت میں گھس گیا۔ ایک درخت کو ناپا تو وہ میرے سر سے بھی اوپر تک پہنچ رہا تھا۔ جب کہ ابھی وہ بڑھ رہا ہے اور غالباً ایک بالشت اور اوپر پر جائے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page