Urdu book · میوات کا سفر

پانچواں سفر

Urdu book, p. 89

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے دیکھا کہ اس کی زمین جتی ہوئی بالکل خشک حالت میں پڑی ہے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہاں سرسوں کے کھیت میں پانی دینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کھاد وغیرہ بھی نہیں دی جاتی۔ زمین اس کے لئے اتنی موزوں ہے کہ کھاد اور پانی کے بغیر نہایت شاندار فصل ہو جاتی ہے ۔ اس علاقہ میں ابھی تک سڑک اور بجلی نہیں پہنچی ہے۔ یہ سفر میں نے جس بیل گاڑی پر طے کیا وہ اشرف خاں پہلوان کی تھی ۔ "کیا یہ گاڑی کرایہ پر چلاتے ہو ۔" میں نے اس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ "جی نہیں" اس نے ایسے انداز سے جواب دیا جیسے میں نے اس پر کوئی عیب لگا دیا ہو۔ یہ میو قوم کی آن کے خلاف ہے کہ وہ گاڑی کرایہ پر چلائے ( اگرچہ اس قسم کی آن کی چیزیں اب حالات کے دباؤ کے تحت ختم ہو رہی ہیں ) اشرف خاں نے بتایا کہ اس کی پہلی بیوی عرصہ ہوا مر گئی۔ اس نے دوسری شادی کی جس میں ساڑھے چھ ہزار روپے خرچ ہو گئے ۔ شادی دور انجان مقام پر ہوئی تھی۔ بعد کو معلوم ہوا کہ وہ اچھے لوگ نہیں تھے۔ میں نے کہا یہ تو آپ لوگوں نے بلا وجہ کی مصیبت اپنے سر لے رکھی ہے ۔ قصہ یہ ہے کہ میوؤں کی پوری قوم ۱۲ پال ( قبیلہ ) میں تقسیم ہے ۔ ہر پال مختلف گوَتوں میں بٹی ہوئی ہے ۔ مجموعی طور پر ۱۲ پال کے ۵۴ گوَت ہوتے ہیں ۔ یہاں کے آبائی رسم و رواج کے مطابق کوئی شخص نہ اپنے گوَت کے اندر شادی کرے گا اور نہ پال کے اندر ۔ وہ بہر حال اپنی گوَت اور پال کے باہر ہی رشتہ کر سکتا ہے ۔ اس جاہلانہ رسم نے میوؤں کو بے شمار مصائب میں مبتلا کر رکھا ہے، اسی کی وجہ سے ان کو دور دور شادیاں کرنی پڑتی ہیں کیونکہ قریب کے رشتے ان کے رسمی عقیدہ کے مطابق اسی طرح حرام ہوتے ہیں جس طرح شرعی محرمات ۔ راستہ میں شام کو ہم بجے ہم تھوڑی دیر کے لئے الکھانی ( ضلع بھرت پور ) اترا۔ یہاں مٹی کی دیواروں کا ایک چھوٹا سا مکان " ہے جو چھپر کے بوجھ سے بھی خالی ہو چکا ہے ۔ اس کی کالی دیواریں بتا رہی ہیں کہ اس کا چھپر آگ کی نذر ہو چکا ہے۔ پچھلے اکتوبر میں کسی طالب علم کی غلطی سے آتش۔ دگی کا یہ واقعہ پیش آیا جس میں نہ صرف اس کی چھپر کی چھت بلکہ سارا اثاثہ بھی جل گیا ۔ اور اثاثہ ہی کیا تھا ، کتا بیں ، رُحل معمولی بستر ، ٹاٹ اور لکڑی کے پنڈلوٹے پھوٹے بکس جھلسی ہوئی ننگی دیواروں کے اوپر : سب بھی لکھا ہوا ہے : مدرسہ اسلامیہ زینت العلوم ۔ الکھانی ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page