پانچواں سفر
Urdu book, p. 90
By Maulana Wahiduddin Khan
اس مدرسہ کے مہتمم منشی مہتاب خاں ہیں۔ "سر سوکھر تک مبلغ ہوں" جوش میں آکر انھوں نے کہا۔ وہ مولانا الیاس صاحب کی تحریک سے متاثر ہوئے اور دس سال تک ان کے ساتھ کام کیا۔ اس کے بعد ۲۲ برس تک مولانا یوسف صاحب کے ساتھ کام کرتے رہے۔ اب بھی وہ تبلیغ کا کام کرتے ہیں۔ اسی کے ساتھ انھوں نے دینی تعلیم کی اہمیت کے پیش نظر ایک مدرسہ پچھلے بیس سال سے قائم کر رکھا ہے، مگر ۲۰ برس بعد بھی اس کی کس مپرسی کا عالم یہ ہے کہ چہرہ کے سوا کوئی سایہ نہیں، اور اب تو حالات نے اس کو اس سے بھی بے نیاز کر دیا ہے، اور اس وقت تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ آسمان کے سایہ کے نیچے بیٹھے ہوئے ہیں۔ پہلے یہاں تقریباً ایک سو طالب علم قرآن، اردو اور فارسی پڑھتے تھے۔ اب تعداد کم ہو گئی ہے۔ دو استاد ہیں۔ ایک اردو وغیرہ کے لئے دوسرے ایک نابینا قاری ہیں جو حفظ اور تجوید پڑھاتے ہیں کس قدر عجیب بات ہے۔ دنیوی تعلیم کے لئے عالیئشان عمارتیں کھڑی ہیں اور اسلام کی دینی تعلیم کے لئے جھونپڑے بھی میسر نہیں۔ اور یہ اس علاقہ کا حال ہے جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ ۲ جنوری کی شام کو ۵ پارجے جب کہ سرخ آفتاب ہماری پشت کی جانب افق کے نیچے جا رہا تھا ہم کیماسا پہنچے۔ یہ مولانا مفتی جمال الدین صاحب کا وطن ہے۔ مولانا اس سے پہلے الور کی جمیعتہ علماء کے صدر اور اس کے بعد وہاں کے سکریٹری رہ چکے ہیں۔ اس علاقہ میں ۱۹۴۷ء کے فسادات کے بعد مسلمانوں کی بحالی کا جو کام ہوا ہے اس میں مولانا محمد ابراہیم صاحب کے رفیق کار رہے ہیں۔ مولانا جمال الدین صاحب، جو اس علاقہ میں مفتی صاحب" کے نام سے مشہور ہیں ہفت روزہ الجمعتہ کے بہت قدرداں ہیں، "مجھے پڑھنے کے لئے اخبار بہت مل سکتا ہے" انھوں نے کہا۔ "مگر میں خود اپنا اخبار خریدتا ہوں، میں اس کو اخبار کی نا قدری سمجھتا ہوں کہ کسی سے مانگ کر پڑھ لیا جائے اور خود خریدا نہ جائے۔" ان کے پاس ہفت روزہ الجمعتہ کا آغاز سے لے کر اب تک مکمل فائل موجود ہے۔ ان کا ساتھ سفر کے بیشتر حصہ میں رہا، اور بہت سی دل چسپ اور مفید باتیں ان کی زبان سے سننے کو ملیں۔ انھوں نے بتایا کہ عطار اللہ شاہ بخاری اپنی تحریروں میں اکثر یہ شعر پڑھا کرتے تھے ۔ ہوا مخالف و گل بے وفا ولالہ در رنگ دریں چمن بہ چہ امید آشیان بندم انور صابری کا ایک شعر انھوں نے سنایا جو انھوں نے عطار اللہ شاہ بخاری کے بارے میں لکھا تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader