Urdu book · میوات کا سفر

پانچواں سفر

Urdu book, p. 93

By Maulana Wahiduddin Khan

تحصیل گوند گڑھ میں ۴۷ گاؤں ہیں جن میں ۸ گاؤں میوؤں کے ہیں " مگر سب میں یہی تکلیف ہے ، عمر خاں نے درد مند لہجہ میں کہا، مولا نا جمال الدین صاحب نے بتایا کہ یہ حالت صرف تحصیل گوند گڑھ کی نہیں بلکہ الور اور بھرت پور کے اضلاع میں عام طور پر یہی کیفیت پائی جاتی ہے۔ بعض لوگ جو سو سو بیگھہ زمین جوتتے تھے ، آج ان کو دو بیگھہ کھیت بھی حاصل نہیں : " وہ میری تیری طرح محنت کر رہے ہیں " عمر خاں نے کہا۔ الور اور بھرت پور میں تخمیناً ہزار غیر میو مسلمانوں کے خاندان بستے ہیں ۔ یہ مسلمان اگر چہ سب کے سب یہیں کے ہیں اور ۱۹۴۷ کے ہنگامہ کے بعد دوبارہ آکر اپنے مکانات میں بس گئے ہیں۔ مگر ان کو سرے سے نہ زمین ملی نہ مکان " کچھ بھی نہیں جی ! " عمر خاں نے کہا۔ " وہ تو مرے تو دفن کا جگہ بھی نہیں " یہ مناظر چوں کہ پہلی بار میرے سامنے آئے تھے اس لئے ان کو دیکھ کر بڑا دکھ ہوا " بھلا کیسے برداشت کرتے ہوں گے یہ لوگ " میری زبان سے شدت تاثر سے نکلا۔ "جی سوکھ گئی دنیا خون بھی نہیں " امید خاں دالگھانی نے کہا۔ انھوں نے قریب کے ایک گاؤں ایڈ بیڈ مان پور کا حال بتایا۔ وہاں میوؤں کی ۵۰ بیگھہ زمین تھی۔ یہ سارے خاندان آج بھی یہاں موجود ہیں۔ مگر ان کی زمینیں غلط طور پر پر ششر زنار تھیوں کو الاٹ کر دی گئی ہیں " میری بھی اس میں دس بیگھہ زمین تھی " امید خاں نے کہا " اب یہ لوگ مزدوری کرتے یا پھریں ، زمین نا ہے تو کیا کریں ۔" انھوں نے کہا۔ کیماسا میں عشاء کے وقت مسجد میں بہت سے لوگ جمع ہو گئے تھے ۔ مجھ سے تقریر کی فرمائش کی گئی۔ میں نے نماز کے بارے میں کچھ باتیں عرض کیں۔ میں نے کہا۔ میں اپنی طرف سے اور آپ کی طرف سے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے ہم کو نمازی بنایا۔ مگر صرف نمازی بن جانا کافی نہیں ہے بلکہ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ ہماری نماز وہ نماز ہے یا نہیں جو اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے ۔ کیوں کہ قرآن وحدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ نماز پڑھتے رہتے ہیں مگر ان کی نماز سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ میں نے کہا کہ نماز دو قسم کی ہوتی ہے : ایک وہ جس کو قرآن کے الفاظ میں " صلوٰة سہو " (غفلت کی نماز ) کہہ سکتے ہیں (فويل للمصلين الذين هم عن صلوتهم ساهون) اس نماز سے آدھی کو کچھ نہیں ملتا ، بلکہ جیسا کہ ارشاد ہوا ہے ، ایسے نمازیوں کے لئے خدا کے یہاں خرابی اور ویل ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page