Urdu book · میوات کا سفر

پانچواں سفر

Urdu book, p. 95

By Maulana Wahiduddin Khan

پانچواں سفر۔۲ یہ سفر ہم نے دسمبر ۱۹۴۹ کی آخری تاریخ کو شروع کیا تھا۔ اب ہم جنوری ۱۹۵۰ میں داخل ہو چکے ہیں۔ جب ہم اس سفر کے لئے چلے تھے تو ہم پچھلے سال‘‘ میں تھے، اب ہم ” اگلے سال‘‘ میں ہیں ۔ کیلنڈر میں زمانہ لازماً آگے کی طرف سفر کرتا ہے۔ وہ ہمیشہ حال سے مستقبل کی طرف جاتا ہے۔ مگر انسانی زندگی میں اس قسم کا لزوم ضروری نہیں ۔ انسان اگر بیدار ہو تو اس کا سفر بھی کیلنڈر کی طرح آگے کی طرف جائے گا۔ مگر جو لوگ غفلت میں پڑ جائیں وہ زمانہ سے بچھڑ جاتے ہیں ۔ عین اس وقت جب کہ ان کے گرد و پیش زمانہ حال سے مستقبل کی طرف جارہا ہوتا ہے ، وہ یا تو حال میں پڑے رہتے ہیں یا حال سے ماضی کی طرف جانے لگتے ہیں ۔ ۳ جنوری ۱۹۵۰ کو ابجے ہم اشرف خان پہلوان کی گاڑی میں کیماسا سے روانہ ہوئے۔ درمیان میں کچھ دور پیدل چل کر دوپہر کو سیکری پہنچے۔ سیکری بازار سے گزرتے ہوئے ایک مقام پر میں نے دیکھا کہ ایک سنار کی دوکان پر ایک میٹو جوڑا اپنے روایتی لباس میں بیٹھا ہوا ہے ۔ " میوفی " اپنے ہاتھ سنار کے لڑکے کی طرف بڑھاتے ہوئے ہے اور سنار اس کے ہاتھ کے چاندی کے ٹکڑے اوزار کے ذریعہ کاٹ کر نکال رہا ہے۔ معلوم ہوا کہ دوبارہ گلا کر بنوانے بار پہن رکھنے کے لئے یہ عمل کیا جاتا ہے ۔ اس معاملہ میں جس کا ایک فریق جاہل اور دوسرا انتہائی ہوشیار ہوتا ہے ، نہ صرف قول اور حساب بلکہ من مانی شرائط کا تقرر بھی ہمیشہ فریق ہوشیار کے قبضہ میں ہوتا ہے ، چنانچہ ایسے ہر عمل میں نقصان میٹو کا ہوتا ہے ۔ اور فائدہ سنار کا۔ قصبہ سیکری کے بازار میں تمام دکانیں غیر مسلموں کی تھیں البتہ میٹو اور میونی کثرت سے خریداری کرتے ہوئے نظر آئے۔ سیکری قصبہ کو پار کر کے میں اس کے دوسری طرف پہنچا تو وہاں ایک نوجوان طالب علم سائیکل لئے ہوئے میرا انتظار کر رہا تھا۔ یہاں سے میں اس کے ساتھ بیٹھ کر روانہ ہوا۔ پندرہ سالہ مبین احمد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page