پانچواں سفر
Urdu book, p. 96
By Maulana Wahiduddin Khan
مجھے میل کھیڑاکے مدرسہ کی طرف لئے جارہا تھا۔ وہ جس شان اور اعتماد کے ساتھ سائیکل چلا رہا تھا اس کو دیکھ کر میری عجیب کیفیت ہوئی۔ میری آنکھیں بھیگ گئیں۔ میں نے اپنے دل میں کہا کیسے قیمتی ہیں یہ نوجوان۔ مگر ان کی حالت یہ ہے کہ وہ نہ حال سے باخبر ہیں نہ مستقبل سے۔ وہ چلے جارہے ہیں مگر انہیں نہیں معلوم کہ وہ کہاں پہنچیں گے۔ قدرت نے انہیں سب کچھ دیا تھا مگر انہوں نے اپنی کسی چیز کو استعمال نہیں کیا۔ میل کھیڑاکے مدرسہ میں میں نے ایک گھنٹہ گزارا یہاں مولانامحمد قاسم صاحب سے ملاقات ہوئی جو اس مدرسہ کے مہتمم ہیں۔ میرا خیال ہے کہ موصوف کے اندر اہتمام اور انتظام کی اچھی صلاحیت ہے۔ انشاء اللہ ان کے زیر اہتمام مدرسہ ترقی کرے گا اگر چہ ابھی وہ دوسرے مدارس کی طرح خستہ پوش ہی نظر آتا ہے۔ ۳ جنوری کی سہ پہر کو بس نے ہمیں پہاڑی کے مدرسہ کے سامنے اتارا۔ یہاں کی مسجد میں ہم نے ظہر کی نماز ادا کی۔ ایک چھوٹی سی معمولی عمارت جو اس مدرسہ کی مسجد بھی ہے اور دوسری ضروریات کے لئے اس کی آماجگاہ بھی۔ اپنے جائے وقوع کے اعتبار سے بہترین جگہ پر واقع ہے۔ اس کے مشرق میں ”پہاڑی“ نام کا قصبہ ہے،شمال سے سڑک گزر رہی ہے۔ اور مغرب میں دور تک پھیلے ہوئے کھیت پہاڑوں کی دیواروں پر جاکر ختم ہوتے ہیں جن کی آسمان سے ملی ہوئی چوٹیاں عجیب آفاقی منظر پیش کر رہی ہیں۔ اس حسین دنیا اور اس مرکزی مقام پر مدرسہ کے نام سے جو چیز قائم ہے وہ ایک درگاہ ہے جس کو کھنڈر سے کچھ ہی زیادہ کہا جاسکتا ہے۔ اگر اس کی زمین اور اس کے جانے وقوع کو پوری طرح استعمال کیا جائے تو یہاں ایک عالی شان مدرسہ ایک بلند و بالا مسجد کے ساتھ نظر آسکتا ہے جو نہ صرف اسلامی تعلیم کا مرکز ہو بلکہ ایک تفریح گاہ بھی بن جائے۔ مگر ملت کی بے توجہی نے اس کو صرف ایک ایسی پناہ گاہ بنا رکھا ہے جہاں کچھ لوگ دینی تعلیم کا جذبہ رکھ کر اپنا سر چھپائے ہوئے ہیں۔ پہاڑی میں مولوی کمال الدین صاحب ایک سرگرم شخصیت ہیں۔ ان کے معمولی لباس اور سادہ گفتگو کے اندر ایک قیمتی شخصیت چھپی ہوئی ہے۔ سیاست اور تبلیغ دونوں میں طویل مدت صرف کرنے کے باوجود ابھی وہ اس حال میں پڑے ہوئے ہیں جیسے ان کی شخصیت ابھی تک اپنا استعمال نہ پاسکی ہو۔ یہ نہ صرف مولوی کمال الدین بلکہ بیشتر امت مسلمہ کا حال ہے۔ ہمارے وہ قابل قدر لوگ جنھوں نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader