پانچواں سفر
Urdu book, p. 97
By Maulana Wahiduddin Khan
ملی خدمت میں عمریں صرف کر دیں آج یہ محسوس کرتے ہیں کہ انھیں کچھ اور بھی کرنا تھا ۔ یا کم از کم اب کچھ اور کرنا چاہئے ۔ آہ وہ قافلہ جو مستقبل میں اس حال میں پہنچے کہ اسے محسوس ہو کہ اس کا ماضی اس کا ساتھ چھوڑ رہا ہے ۔ ۳ جنوری کو شام کے ۳ بجے ہم بیواں اترے ۔ یہاں سے ہمیں سائیکل کے ذریعہ بڈیڈ جانا تھا ۔ بیواں میں قصبہ کے باہر ایک قدیم طرز کی نمایاں عمارت نظر آتی ہے ۔ مقبرہ کے اونچے گنبد کے ساتھ چھوٹی چھوٹی دو مسجدیں ہیں اور ارد گرد کافی زمین بھی ہے ۔ ہم نے چاروں طرف ڈھونڈنے کی کوشش کی مگر کہیں کوئی کتبہ ایسا نہیں ملا جس سے صاحب قبر اور سن تعمیر کا پتہ چل سکے ۔ ” جانے کتنی صدیاں گذر گئیں “ میرے رفیق سفر مولانا عبدالرحیم نے کہا ” کس قدر شاندار عمارت مگر بالکل ویران پڑی ہوئی ہے ۔ حالانکہ یہاں مدرسہ بن سکتا ہے ، اسلامی مرکز بن سکتا ہے ۔۔۔۔“ مولانا عبد الرحیم صاحب کے الفاظ میں بے حد صداقت تھی ۔ یہ جگہ سڑک سے متصل ہے بجلی بھی قریب سے مل سکتی ہے اگر ان سہولتوں سے فائدہ اٹھا کر اس زمین اور اس عمارت کو کار آمد بنایا جائے تو یہاں بھی وہی نقشہ ہو سکتا ہے جو میں نے دھولی دوپ کی درگاہ میں دیکھا تھا اور جس سے آج وہ لوگ سور وپے روز کما رہے ہیں۔ مگر ہمارا حال یہ ہے کہ جو چیز دوسروں کے قبضہ میں چلی جائے اس پر داد و بلا مچاتے ہیں اور جو چیز اپنے قبضہ میں ہو اس کو ویران چھوڑے رکھتے ہیں ۔ اس طرح کی سیکڑوں قدیم عمارتیں جو آج بھی مسلمانوں کے قبضہ میں ہیں مگر ان کو کوئی استعمال کرنے والا نہیں ۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ رات دن کھنڈر ہو رہی ہیں اور ان کی زمینوں کو دوسرے لوگ اپنے قبضہ میں لیتے جا رہے ہیں ۔ راستہ میں ہم گھاٹ میکا اور حجرہ سے گذرے ۔ یہ میوؤں کے گاؤں ہیں ۔ مٹی کی نیچی دیواریں جو اپنے دوش ناتواں پر پر چھپر کا بوجھ سنبھالے ہوئے تھیں ، انھیں کا نام یہاں کی اصطلاح میں مکان ہے ۔ ان چھپر پوش خام مکانات کے آگے سب سے زیادہ نمایاں جو چیز نظر آتی ہے وہ گھور اور اپلوں کے ڈھیر ہیں ۔ یہی اس علاقہ کی تمام بستیوں کا حال ہے ۔ میو گاؤں عام طور پر غلیظ گھروندوں کا دوسرا نام ہوتا ہے ۔ اور آگے بڑھے تو ہمارے سامنے ایک طویل بند تھا جو راجستھان کو ہریانہ سے جدا کرتا ہے ۔ یہاں سے ہمارا راستہ پہاڑ کے کنارے کنارے بڈیڈ تک جاتا تھا ۔ پہاڑ کی سنگی دیوار آسمان کو چھوتی ہوئی مسلسل ہمارے ساتھ چلی جا رہی تھی ۔ ارولی کے یہ پہاڑی سلسلے پورے میوات میں پھیلے ہوئے ہیں اور انھیں کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader