Urdu book · مطالعۂ حدیث

روحِ اسلام

Urdu book, p. 139

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ کا بندہ صحیح مسلم، کتاب البر والصلة والادب میں باب فضل الضعفاء، واکنا ملین (کمزور اور گم نام آدمیوں کا باب) کے تحت حسب ذیل روایت نقل کی گئی ہے : عن ابی ھریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ قال: رُبَّ اشعث (اغبر) مدفوع علیہ وسلم نے فرمایا۔ بہت سے پریشان بال، گرد آلود، بال الابواب، لو اقسم عَلَى اللهِ لَابَرَّهُ دروازوں سے دھکیلے ہوئے لوگ ہیں ، اگر وہ اللہ کے اوپر قسم کھا لیں تو اللہ ان کی قسم کو پورا کرے گا۔ یہاں یہ سوال ہے کہ ایک شخص اللہ کا مقبول بندہ ہوتے ہوئے انسانوں کے نزدیک نامقبول کیوں بن جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسا شخص عوام سے مصالحت نہیں کرتا۔ وہ عوامی ذوق کی باتیں نہیں کرتا۔ وہ عام انسانوں کی پسند اور ناپسند کو معیار بنا کر دنیا میں نہیں رہتا۔ وہ اللہ کی طرف دیکھتا ہے نہ کہ عوام کی طرف ۔ ایسے انسان کا انجام ہمیشہ یہی ہوتا ہے ۔ وہ عوامی مجالس سے دور رہتا ہے، اس لیے وہ عوام کے درمیان اجنبی بن جاتا ہے۔ وہ بے آمیز حق کی بات کرتا ہے، اس لیے وہ ان لوگوں کے یہاں مقام نہیں پاتا جو ملاوٹی حق کو اختیار کیے ہوئے ہوں۔ وہ بھیڑ کی خواہشوں کا ساتھ نہیں دیتا، اس لیے بھیڑ بھی اس کو اپنے اسٹیج پر نمایاں کرنے پر راضی نہیں ہوتی۔ ایسا آدمی اپنے رب سے جڑا ہوا ہوتا ہے، مگر عین اسی وقت وہ عوامی بھیڑ سے کٹ جاتا ہے۔ سب سے بڑی مہربانی اپنی غیر مقبولیت پر راضی ہونا ہے، اور مذکورہ آدمی یہی مہربانی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے یہاں اس کا درجہ اتنا بلند ہو جاتا ہے کہ اللہ کے اعتماد پر اگر وہ قسم کھائے اور یہ کہہ دے کہ اللہ ضرور ایسا کرے گا تو اللہ کو غیرت آتی ہے کہ وہ اپنے اس بندہ کی اس قسم کو پورا کرے ۔ جو آدمی اللہ کی خاطر اس طرح لوگوں کے درمیان غیر مقبول ہو جائے ، وہ اللہ کا مقبول بندہ بن جاتا ہے۔ اللہ کو اس سے غیرت آتی ہے کہ وہ ایسے بندہ کی دعا کو پورا کرے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page