Urdu book · مطالعۂ حدیث

روحِ اسلام

Urdu book, p. 40

By Maulana Wahiduddin Khan

نفسیاتی قلعہ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : اَمُرُكُمْ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں تم کو زیادہ بذكر الله كثيراً وَمَثَلُ ذلك كَمَثَلِ سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے کی تلقین کرتا ہوں اور رَجُلٍ طَلَبَهُ العَدُوُّ سِرَاعًا حَتَّى اَتَى اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک آدمی کا اس کے حِصْنًا حَصِينًا فَاَحْرَزَ نَفْسَهُ فِيهِ دشمن نے تیزی سے پیچھا کیا۔ یہاں تک کہ وہ وَكَذَلِكَ الْعَبْدُ لا ينجو مِنَ الشَّيْطَانِ بھاگ کر ایک مضبوط قلعے میں داخل ہو گیا۔ اس اِلا بِذِكْرِ اللهِ - طرح اس نے قلعہ بند ہو کر اپنے آپ کو بچالیا۔ (الترمذی) یہی معاملہ بندہ کا ہے ۔ وہ صرف اللہ کی یاد ہی کے ذریعہ شیطان سے بچ سکتا ہے۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ انسان کو سب سے زیادہ گمراہ کرنے والا اس کا دشمن شیطان ہے۔ اس سب سے بڑے دشمن سے بچنے کی تدبیر صرف یہ ہے کہ آدمی ہمیشہ اللہ کا ذکر کرتا رہے۔ ذکر سے مراد کچھ مقرر کلمات کا ورد نہیں ہے۔ اس قسم کی لسانی ورزش کا مذکورہ ذکر سے کوئی تعلق نہیں۔ معروف قسم کا ورد یا تکرار الفاظ کسی بھی درجہ میں آدمی کو شیطان کے بہکاوے سے بچانے والے نہیں اور نہ وہ کسی کے لئے شیطانی حملوں کے مقابلہ میں حفاظت کا قلعہ بن سکتا ہے۔ ذکر سے مراد دراصل یاد ہے۔ یعنی اللہ کے تصور کا آدمی کے ذہن پر اتنا غلبہ ہو جانا کہ وہی اس کی مستقل سوچ بن جائے ۔ آدمی کو ہر وقت خدا کے کمالات اور اس کی عظمتوں کا احساس ہوتا رہے۔ دنیا کے ہر منظر میں اس کو خدا کی جھلک دکھائی دے۔ کائنات کی ہر آواز میں اس کو خدا کا نغمہ سنائی دے۔ وہ ہر واقعہ اور ہر تجربہ سے اپنے لیے ربانی سبق لیتا رہے۔ آدمی جب اس طرح خدا کو یاد کرنے لگتا ہے تو اس کا ذہن خدائی حقیقتوں کے بارہ میں جاگ اٹھتا ہے۔ اس کے اندر صحیح اور غلط کا شعور پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر ایک قسم کا ذہنی روک یا نفسیاتی قلعہ بن جاتا ہے جس کے اندر وہ شیطان سے محفوظ ہو کر رہ سکے۔ جو آدمی اس طرح اللہ کی یاد میں جینے لگے اس پر قابو پانا شیطان کے لیے ممکن نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page