روحِ اسلام
Urdu book, p. 141
By Maulana Wahiduddin Khan
اطاعت غزوۂ موتہ ، ہجرت کے آٹھویں سال پیش آیا ۔ محمد بن جریر الطبری (۳۱۰ - ۳۲۴ھ) نے اپنی کتاب تاریخ الرسل والملوک میں غزوۂ موتہ کے ذیل میں لکھا ہے : حدثنا ابوقتادة فارس رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال بعث رسول الله جيش الامراء فقال: عليكم زيد بن حارثة فإن اصيب فجعفر بن ابى طالب، فإن اصيب جعفر فعبد الله بن رواحة - فوثب جعفر فقال يا رسول الله ماكنت اذهب ان تستعمل زيداً أعلى - قال امض، فإنك لا تدري اى ذلك خير - فانطلقوا ـ مومن فرشتے نہیں ہوتا۔ مومن کبھی دوسرے حضرت ابو قتادہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موتہ کے لئے لشکر بھیجا۔ آپ نے کہا کہ زید بن حارثہ تمہارے سردار ہیں وہ شہید ہو جائیں تو جعفر بن ابی طالب سردار ہوں گے۔ اور اگر جعفر شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ سردار ہوں گے۔ یہ سن کر جعفر جھپٹ کر اٹھے اور کہا کہ اے خدا کے رسول ، میں ایسے لشکر میں نہیں جاؤں گا جس میں آپ نے زید کو میرے اوپر سردار بنایا ہو۔ آپ نے فرمایا کہ جاؤ، کیوں کہ تم نہیں جانتے کہ اس میں سے کیا زیادہ بہتر ہے۔ پھر لوگ روانہ ہوئے انسانوں کی طرح ایک انسان ہوتا ہے اس میں سے کیا کہ مومن فرشتہ نہیں ہوتا۔ وہ بھی دوسرے انسانوں کی طرح ایک انسان ہوتا ہے۔ اس کے باوجود دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ غیر مومن کے دل میں کوئی غلط خیال یا انحراف کی بات آجائے تو اس کے بعد وہ رکنا نہیں جانتا۔ وہ اپنے اسی خیال پر چل پڑتا ہے، خواہ اس کی غلطی اس پر کتنی ہی زیادہ واضح کی جائے۔ وہ دلیل کی پیروی نہیں کرتا، بلکہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے۔ اس کے برعکس سچے مومن کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب اس کو اس کی غلطی پر ٹوکا جائے اور اس کے انحراف پر اسے متنبہ کیا جائے تو وہ فوراً رک جاتا ہے۔ وہ اپنے خیال کو اپنا عمل نہیں بناتا۔ وہ اپنی رائے پر اصرار نہیں کرتا۔ وہ ہر وقت اپنی اصلاح کے لئے تیار رہتا ہے، خواہ اصلاح کی خاطر اس کو اپنی خواہش کے خلاف چلناپڑے۔ مومن حق کا پابند ہوتا ہے اور غیر مومن صرف اپنے نفس کا پابند۔ مری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader