مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
کے بعد وہ خوبصورت عربی خط ایجاد کیا جس کو خط کوفی کہا جاتا ہے۔ موجودہ عربی خط اسی کی ایک ترقی یافتہ شکل ہے۔ اس طرح ابن مقلہ کی کوششوں نے قرآن کو حسن خط کے دور میں داخل کر دیا۔ قرآن کی حفاظت کا یہ عمل مسلسل صدیوں تک جاری رہا۔ کچھ لوگ کامل اہتمام کے ساتھ قرآن کی نقلیں تیار کرتے اور اسی طرح کچھ لوگ کامل اہتمام کے ساتھ قرآن کو حفظ کرتے۔ کتابت اور حفظ کو ایک دوسرے سے چیک کرنے کا عمل بھی صدیوں تک جاری رہا۔ جب بھی کوئی شخص قرآن کا ایک نسخہ لکھ کر تیار کرتا تو کسی حافظ کو پڑھوا کر وہ اس کو چیک کرتا۔ اسی طرح جب کوئی شخص قرآن کا حفظ کرتا تو اس کے حفظ کو لکھے ہوئے قرآن سے چیک کیا جاتا۔ یہ عمل مسلسل جاری رہا۔ کچھ لوگوں نے فن قرأت ایجاد کیا۔ اس کے بعد ہر نسل میں ہزاروں لوگ اس عمل میں مشغول ہو گئے کہ وہ پیغمبر اور آپ کے اصحاب کے لہجہ اور قرأت کو اس کی سابقہ حالت میں محفوظ رکھیں۔ یہ حفاظت قرأت کا یہ اہتمام اتنے بڑے پیمانہ پر ہوا کہ آج جب ایک تربیت یافتہ قاری قرآن کی تلاوت کرتا ہے تو سننے والوں کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہ وہ رسول اور اصحاب رسول کی قرأت کو سن رہے ہیں۔ اس طرح رسول اور اصحاب رسول کی قرأت تاریخ کے دوش پر سوار ہو کر نسل در نسل سفر کرتی رہی تا کہ ہر زمانہ کے لوگوں کو اس کی گونج اپنی اصل آواز میں سنائی دیتی رہے۔ قرآن کی حفاظت کا یہ عمل نسل در نسل جاری رہا، یہاں تک کہ وہ پرنٹنگ پریس اور ریکارڈنگ کے دور میں پہنچ گیا۔ پرنٹنگ کی ایجاد نے قرآن کی کتابت کو ابدی طور پر محفوظ کر دیا۔ اسی طرح ریکارڈنگ کی ایجاد قرآن کی اصل آواز کی حفاظت کی یقینی ضمانت بن گئی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قرآن کی انسانی حفاظت کے ساتھ اب اس کی پشت پرشینی حفاظت کا اہتمام بھی شامل ہو گیا ہے۔ اس اہتمام مزید نے اب متن قرآن میں کسی بھی قسم کے بگاڑ کو عملاً ناممکن بنا دیا ہے۔ عربی زبان قرآن کی حفاظت کے ساتھ یہ بھی ضروری تھا کہ قرآن کی زبان عربی کو ہمیشہ کے لئے محفوظ رکھا جائے۔ یہ کام بھی امت کے علماء نے بہت بڑے پیمانہ پر انجام دیا۔ عربی زبان قرآن کے نزول کے وقت ہی ایک اعلیٰ زبان کی حیثیت رکھتی تھی تاہم فنی اعتبار سے اس کی تدوین نہیں ہوئی تھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader