عربی زبان
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
اس سلسلہ میں بہت سے لوگ اٹھے جنہوں نے نحو اور صرف اور لغت کے میدان میں غیر معمولی کام کیا۔ اور عربی زبان کو ایک مدون لغت کی حیثیت دے دی۔ قرآن کی زبان عربی کی حفاظت کا یہ کام اتنے بڑے پیمانہ پر ہوا کہ عربی زبان استثنائی طور پر آج بھی اسی ابتدائی حالت میں زندہ ہے جیسا کہ وہ قرآن کے نزول کے وقت تھی۔ چودہ سو سال کی طویل مدت کے باوجود اس کے اندر کوئی لغوی تبدیلی نہ ہوسکی۔ جب کہ اس مدت میں دنیا کی تمام زبانیں بالکل بدل چکی ہیں۔ مثال کے طور پر جیفریے چاسر (Geoffrey Chaucer) انگریزی زبان کا مشہور شاعر ہے۔ چاسر ۱۳۲۲ء میں لندن میں پیدا ہوا اور ۱۴۰۰ء میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کا زمانہ آج سے پانچ سو سال پہلے کا ہے۔ لیکن اس کی زبان موجودہ انگلش زبان سے اتنا زیادہ مختلف ہے کہ آج کا کوئی عام انگریزی داں اس کو نہیں سمجھ سکتا۔ اس کو صرف ڈکشنری اور مخصوص ماہرین کی شرح کی مدد سے سمجھا جاسکتا ہے۔ مگر قرآن کی زبان عربی کا معاملہ اس سے یکسر مختلف ہے۔ آج لکھی جانے والی عربی زبان عین وہی ہے جو نزولِ قرآن کے زمانے میں تھی۔ قرآن اور حدیث اور صحابہ کی زبان کو سمجھنا آج کے ایک عربی داں کے لئے اتنا ہی آسان ہے جتنا آج سے چودہ سو سال پہلے کے ایک عربی داں کے لئے ممکن اور آسان تھا۔ عربی زبان کا اس طرح استثنائی طور پر اپنی اصل ابتدائی حالت پر باقی اور زندہ رہنا محض اتفاقا نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہزاروں لوگ حفاظتِ زبان کے اس عمل میں لگے رہے۔ انھوں نے نحو اور صرف اور لغت اور دوسرے متعلق فنون میں غیر معمولی محنتیں کیں یہاں تک کہ ایک غیر مدون زبان کامل معنوں میں ایک مدون علمی زبان بن گئی۔ قرآنی زبان کو محفوظ کرنے کی یہ محنت کتنے بڑے پیمانہ پر کی گئی، اس کی صرف ایک مثال یہاں نقل کی جاتی ہے۔ ابو سعید الاصمعی ایک مشہور لغوی تھا۔ وہ ۱۲۲ھ میں بصرہ میں پیدا ہوا اور بصرہ ہی میں ۲۱۶ھ میں اس کی وفات ہوئی۔ الاصمعی کو اس بات کی دھن تھی کہ وہ عربی الفاظ کے وہ معانی دریافت کرے جو اصلی عرب باشندوں کے ذہن میں ہوتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے وہ لمبی مدت تک عرب کے صحراؤں میں گھومتا رہتا کہ عرب بدوؤں سے عربی کے بارے میں لسانی معلومات حاصل کرے۔ کیوں کہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ عرب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader