Urdu book · مطالعہ قرآن

جمع و تدوین

Urdu book, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

ble checking system کا نام دیا ہے۔ یعنی ایک طرف قاری قرآن کے حصے پڑھتا تھا اور دوسری طرف اس پڑھے ہوئے حصے کی مطابقت تحریری ذخیرہ سے کی جاتی تھی۔ اور جب تحریر اور حافظہ دونوں ایک دوسرے کے مطابق ثابت ہو جاتے تو اس کو اس زمانہ کے دستیاب کاغذ پر لکھ لیا جاتا تھا۔ اس طرح دہر اپچیکنگ کے اصول کو اختیار کرتے ہوئے پورے قرآن کو از اول تا آخر ترتیب کے اس زمانہ کے قابل حصول کاغذ پر لکھا گیا۔ اور پھر اس کی سلائی کر کے اس کو ایک مجلد کتاب کی صورت دی گئی۔ چونکہ پہلا مصحف چو کور تھا اس لئے وہ ربعہ کہا جانے لگا۔ اس ربعہ (مصحف اول) کو خلیفہ ابو بکر صدیق نے رسول اللہ ﷺ کی زوجہ حضرت حفصہ بن عمر کے پاس رکھوا دیا۔ یہ مصحف اول اسی حالت میں حضرت حفصہ کے پاس محفوظ رہا۔ یہاں تک کہ تیسرے خلیفہ حضرت عثمان بن عفان کا زمانہ آیا۔ انھوں نے اس مصحف اول کو حضرت حفصہ کے پاس سے منگوایا اور سرکاری اہتمام کے تحت اس کے متعدد نقلیں تیار کرائیں۔ اور پھر ان تیار شدہ سرکاری نسخوں کو مسلم دنیا کے بڑے بڑے شہروں میں بھیج دیا اور یہ حکم دیا کہ یہ مصاحف شہر کی جامع مسجدوں میں رکھے جائیں تاکہ لوگ اس سے استفادہ کر سکیں۔ اس کے بعد ہر شہر میں لوگ ان مصاحف کی مزید نقلیں تیار کرنے لگے۔ یہاں تک کہ قرآن کے ہزاروں صحیح نسخے ایشیاء سے لے کر افریقہ تک ہر ملک میں پھیل گئے۔ قرآن کی حفاظت اور اشاعت کی یہ تاریخ آگے بڑھتی رہی۔ اس میں مختلف پہلوؤں سے نسل در نسل لوگ حصہ لیتے رہے۔ مثال کے طور پر بنو امیہ کے حاکم حجاج بن یوسف الثقفی (وفات ۹۵ھ / ۷۱۴ء) کے زمانے تک قرآن میں اعراب نہیں ہوتا تھا۔ جس کی وجہ سے غیر عالم اس کو پڑھنے میں غلطی کرتا تھا۔ حجاج نے یہ کیا کہ پورے قرآن پر اعراب لگوائے۔ اس کے نتیجہ میں یہ امکان ختم ہو گیا کہ کوئی شخص قرآن کو پڑھنے میں ادائیگی کی غلطی کرے۔ اسی طرح قرآن کے قدیم نسخے ابتدائی خط میں لکھے جاتے تھے۔ اس خط کا اسلوب بالکل سادہ تھا۔ اس میں موجودہ تحریری حسن موجود نہ تھا۔ اس کمی کو عباسی دور کے خطاط ابن مقلہ (وفات ۹۳۰ء) نے پورا کیا۔ ابن مقلہ خطاطی کا خصوصی ذوق رکھتا تھا۔ اس نے لمبی مدت کے مشق اور تجربہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page