مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 99
By Maulana Wahiduddin Khan
اس آیت کے مطابق، ہر انسان شیطان کی زد میں ہے۔ شیطان ہر انسان کو بہکا کر تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔ اس معاملہ میں شیطان کا طریقہ کیا ہے، وہ تزئین ہے۔ یعنی غلط کام کو اچھا بنا کر پیش کرنا، برائیوں کو بھلائی کی صورت میں دکھانا، بربادی کے راستے کی ایسی تشریح کرنا کہ وہ کامیابی کا راستہ دکھائی دینے لگے۔ یہی تزئین انسان کے مقابلہ میں شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ وہ کون لوگ ہیں جو شیطان کی اس تباہ کن تزئین سے بچ جائیں گے۔ یہ وہ منتخب انسان ہیں جو اپنے شعور کو اتنا زیادہ بیدار کر لیں کہ جب شیطان انھیں ایک غلط کام کو صحیح کام بنا کر دکھائے تو وہ اس سے متاثر نہ ہوں۔ وہ شیطان کی تزئین کا پردہ پھاڑ کر اصل حقیقت کو دیکھ لیں۔ وہ اپنی خداداد عقل کے ذریعہ معاملات کو سمجھیں نہ کہ شیطان کی ترغیبَات کے ذریعہ۔ 16-060 دین میں اختلاف قرآن میں ارشاد ہوا ہے : اور ہم نے تم پر کتاب صرف اس لئے اتاری ہے کہ تم ان کو وہ چیز کھول کر سنا دو جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں اور وہ ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائیں۔ اور اللہ نے آسمان سے پانی اتارا۔ پھر اس سے زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کر دیا۔ بے شک اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو سنتے ہیں (النحل ۶۳- ۶۵)۔ دوسرے مقام پر یہی بات اس طرح کہی گئی ہے: لوگ ایک امت تھے۔ انہوں نے اختلاف کیا تو اللہ نے پیغمبروں کو بھیجا خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے۔ اور ان کے ساتھ اتاری کتاب حق کے ساتھ تاکہ وہ فیصلہ کر دے ان باتوں کا جن میں لوگ اختلاف کر رہے ہیں۔ اور یہ اختلاف انہیں لوگوں نے کئے جن کو حق دیا گیا تھا، بعد اس کے کہ ان کے پاس کھلی کھلی ہدایت آچکی تھیں، آپس کی ضد کی وجہ سے۔ پس اللہ نے اپنی توفیق سے حق کے معاملہ میں ایمان والوں کو راہ دکھائی جس میں وہ جھگڑ رہے تھے۔ اور اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ (البقره ۲۱۳)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader