دین میں اختلاف
Urdu book, p. 100
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ جو دین بھیجا وہ ایک ہی دین ہے۔ پھر اتنے زیادہ پیغمبر کیوں آئے۔ اصل یہ ہے کہ جب ایک پیغمبر خدا کا دین لاتا ہے تو اس کے ابتدائی ماننے والے اس کو پیغمبر کی تشریح کے مطابق مانتے ہیں۔ بعد کی نسلوں میں تعبیر و تشریح میں اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک دین مختلف تشریحات کی صورت اختیار کر کے کئی دین بن جاتا ہے۔ ان میں سے ہر گردہ اپنے بنائے ہوئے دین کو صحیح اور دوسرے کو غلط کہنے لگتا ہے۔ اختلاف کے جنگل میں لوگوں کے لئے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کیا چیز حق ہے اور کیا چیز ناحق۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہی صورت پیدا ہو گئی تھی۔ اس وقت اللہ تعالی نے پیغمبر اسلام کو بھیج کر یہ انتظام کیا تھا کہ لوگ مذہبی اختلاف کے جنگل کے درمیان خدا کے سچے راستے کو معلوم کر سکیں۔ یہی صورت حال آج بھی باقی ہے۔ ایک شخص خدا کے راستے کی تلاش میں ہو اور وہ مختلف مذاہب کا مطالعہ کرے تو وہ یقینا ذہنی انتشار میں پڑ جائے گا۔ کیوں کہ مذاہب کی جو تعلیمات آج موجود ہیں ان میں باہم سخت اختلافات ہیں۔ چنانچہ حق کے متلاشی کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کس چیز کو صحیح سمجھے اور کس چیز کو غلط۔ ایسی حالت میں پیغمبر آخرالزمان کا لایا ہوا دین خدا کے بندوں کے لئے رحمت ہے۔ کیوں کہ دوسرے ادیان کے برعکس، آپ کا دین ایک محفوظ دین ہے۔ وہ تاریخی اعتبار سے پوری طرح مستند ہے۔ اس بنا پر پورا اعتماد کیا جا سکتا ہے کہ آپ نے جو دین چھوڑا ہی وہ حقیقی دین ہے جو خدا کو اپنے بندوں سے مطلوب ہے۔ تاہم تفسیر و تشریح میں اختلاف کا امکان بدستور باقی ہے۔ اس لئے پیغمبر آخرالزمان کے بعد بھی یہ صورت پیش آئے گی کہ اصل دین میں مختلف تعبیرات کر کے لوگ دوبارہ مختلف مذہبی دائروں میں بٹ جائیں۔ مگر آخری دین (اسلام) کا متن اب بھی پوری طرح محفوظ ہے۔ اس لئے آدمی اگر انسانی تشریحات سے الگ ہو کر براہ راست متن کے ذریعہ خدا کے دین کو سمجھنا چاہے تو وہ حقیقی دین کو پانے سے محروم نہیں رہ سکتا، بشر طیکہ وہ اس معاملہ میں پوری طرح سنجیدہ ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader