Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 98

By Maulana Wahiduddin Khan

طاقت حاصل نہ تھی۔ مزید یہ کہ مخالفتوں کی کثرت نے بظاہر سارے امکانات کو مسدود کر رکھا تھا۔ ایسی حالت میں قرآن کا یہ بیان کہ وہ مستقل طور پر باقی اور محفوظ رہے گا ایک نہایت غیر معمولی بیان تھا۔ ظاہری حالات کے اعتبار سے یہ ایک نا قابل قیاس واقعہ کی پیشین گوئی تھی۔ وہ تمام اسباب مستقبل کے اندھیروں میں چھپے ہوئے تھے جو حفاظت قرآن کو واقعہ بنانے کے لئے درکار تھے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ آیت اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ قرآن خدا وند عالم کی کتاب ہے۔ چنانچہ عین پیشین گوئی کے مطابق بعد کے زمانے میں ایک کے بعد ایک وہ تمام واقعات ظاہر ہوئے جو قرآن کی حفاظت کی یقینی ضمانت بن گئے۔ یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ جدید پریس کا دور آگیا۔ جس کے بعد کسی کے لئے قرآن کو مٹانا عملاً ممکن ہو گیا۔ مزید یہ کہ انتہائی استثنائی طور پر عربی زبان جو کہ قرآن کی زبان ہے، اپنی اصل ابتدائی حالت میں موجود رہی جب کہ نزول قرآن کے زمانے کی کوئی بھی زبان آج اپنی قدیم حالت میں موجود نہیں۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو، مصنف کی کتاب: عظمتِ قرآن) 15-059 منتخب بندے قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے حکم کے باوجود، ابلیس نے آدم کے آگے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد اللہ نے اس کو ہمیشہ کے لئے اپنی رحمت سے دور کر دیا۔ اس وقت شیطان نے یہ جواب دیا: ابلیس نے کہا، اے میرے رب، جیسا تو نے مجھے گمراہ کیا ہے اسی طرح میں زمین میں ان کے لئے مزین کروں گا اور سب کو گمراہ کر دوں گا سو ان کے جو تیرے چنے ہوئے بندے ہیں۔ اللہ نے فرمایا، یہ ایک سیدھا راستہ ہے جو مجھ تک پہنچتا ہے۔ بے شک جو میرے بندے ہیں ان پر تیرا زور نہیں چلے گا۔ سو ان کے جو گمراہ ہوں میں سے تیری پیروی کریں۔ اور ان سب کے لئے جہنم کا وعدہ ہے۔ (الحجر ۳۹۔ ۴۳)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page