Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 101

By Maulana Wahiduddin Khan

یہاں اس معاملے کو بارش کی مثال کے ذریعے واضح کیا گیا ہے۔ بارش زمین کے ہر حصہ پر برستی ہے۔ مگر جو زرخیز زمین ہے اسی کو بارش سے فائدہ ہوتا ہے۔ بنجر زمین بارش کے باوجود بارش کے فائدے سے محروم رہتی ہے۔ یہی حال انسانوں کا ہے۔ جس آدمی نے اپنی استعداد کو زندہ رکھا ہو وہ اختلاف کے باوجود اصل دین کو پالے گا۔ اور جس آدمی کی استعداد مردہ ہو جائے وہ اختلافات میں الجھ کر رہ جائے گا۔ وہ اصل دین کو پانے میں ناکام رہے گا۔ 16-061 وحی کی شہادت قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اور تمہارے رب نے شہد کی مکھی پر وحی کی کہ پہاڑوں اور درختوں اور جہاں ٹٹیاں باندھتے ہیں ان میں گھر بنا۔ پھر ہر قسم کے پھلوں کا رس چوس اور اپنے رب کی ہموار کی ہوئی راہوں پر چل۔ اس کے پیٹ سے پینے کی چیز نکلتی ہے، اس کے رنگ مختلف ہیں، اس میں لوگوں کے لئے شفاہے۔ بے شک اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو غور کرتے ہیں۔ (النحل ۶۸ - ۶۹) قرآن کی اس آیت میں شہد کی مکھی کے معاملے کو بتانے کے لئے وحی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر انسان شہد کی مکھی کے معاملے پر غور کرے تو وہ پیغمبر پر آنے والی وحی کو بھی سمجھ سکتا ہے۔ شہد کی مکھی کی زندگی میں ایسی غیر معمولی نشانیاں ہیں جو اس حقیقت کو بتاتی ہیں کہ شہد کی مکھی کو یقینی طور پر خارج سے وحی جیسی رہنمائی دی جارہی ہے، خارجی رہنمائی کے بغیر شہد کی مکھی خود سے ایسا نہیں کر سکتی۔ شہد کی مکھی جس طرح کام کرتی ہے اس میں اس نوعیت کی کثیر مثالیں پائی جاتی ہیں۔ مثلاً شہد کی مکھی کا چھتہ۔ شہد کی مکھی اپنا ہر چھتہ انتہائی صحت کے ساتھ اعلیٰ ریاضیاتی قوانین کی پابندی کرتے ہوئے بناتی ہے۔ اس کو یہ ریاضیاتی علم کس نے دیا۔ شہد کے ایک چھتے میں ہزاروں مکھیاں کام کرتی ہیں۔ ان کا یہ کام اتنے زیادہ منظم انداز میں ہوتا ہے جس کی مثال کسی بھی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page