مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 102
By Maulana Wahiduddin Khan
انسانی کار خانے میں موجود نہیں۔ شہد کی مکھیوں کو یہ ڈسپلن کس نے سکھایا۔ یہ مکھیاں جب پھولوں کا رس لا کر اپنے چھتے میں جمع کرتی ہیں تو اسی کے ساتھ وہ انتہائی مناسب مقدار میں اس کے اندر ایک ایسا تحفظی مادہ(preservative) شامل کرتی ہیں جو شہد کو لمبی مدت تک خراب ہونے سے بچانے والا ہے۔ یہ فن شہد کی مکھی کو کس نے سکھایا۔ شہد کی مکھی شہد لانے کے لئے اکثر اپنے چھتے سے کئی کلو میٹر دور تک جاتی ہے۔ صبح کو جب وہ شہد لانے کے لئے اپنے چھتے سے روانہ ہوتی ہے تو وہ کسی قدر اندھیرے میں روانہ ہوتی ہے۔ لیکن شام کو جب وہ شہد لے کر اپنی آخری ٹرپ سے لوٹتی ہے تو وہ کسی قدر اجالے میں لوٹتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صبح کو اس کا سفر اندھیرے سے اجالے کی طرف ہوتا ہے لیکن شام کو اجالے سے اندھیرے کی طرف۔ اس لئے صبح کو اگر وہ اندھیرے میں روانہ ہو تو اطمینان ہوتا ہے کہ تھوڑی دیر میں اجالا ہو جائے گا۔ اور راستے صاف دکھائی دینے لگیں گے۔ اس کے برعکس اگر وہ شام کو دیر سے واپس ہو تو اندیشہ ہے کہ جلد ہی اندھیرا ہو جائے اور وہ اپنے راستہ سے بھٹک جائے۔ صبح کی پہلی ٹرپ اور شام کی آخری ٹرپ میں فرق کرنے کا یہ شعور اس کو کس نے دیا۔ شہد کی مکھی کی کارکردگی میں اس طرح کی بہت سی انوکھی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ یہ مثالیں ناقابل تردید طور پر ثابت کرتی ہیں کہ شہد کی مکھی کو خارجی وحی سے رہنمائی مل رہی ہے۔ اس طرح شہد کی مکھی کی وحی ثابت ہونے کے بعد پیغمبر کی وحی بھی یقینی طور پر ثابت ہو جاتی ہے۔ ایک کے ساتھ وحی کا امکان ثابت ہونے کے بعد دوسرے کے ساتھ وحی کا امکان اپنے آپ ثابت ہو جاتا ہے۔ دونوں میں ایک منطقی لزوم ہے جس سے انکار کسی بھی طرح ممکن نہیں۔ 16-062 دین فطرت قرآن میں ارشاد ہوا ہے : بے شک اللہ حکم دیتا ہے عدل کا اور احسان کا اور قرابت داروں کو دینے کا۔ اور اللہ روکتا ہے فحشاء سے اور منکر سے اور سرکشی سے۔ اللہ تم کو نصیحت کرتا ہے تاکہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader