دین فطرت
Urdu book, p. 103
By Maulana Wahiduddin Khan
تم یاد دہانی حاصل کرو۔ (النحل ۹۰) دنیا میں کوئی اللہ کا بندہ کس طرح رہے، اس کا واضح بیان اس آیت میں موجود ہے۔ اس کے مطابق، پہلی چیز جس کا ایک شخص کو اہتمام کرنا ہے وہ عدل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص کا جو حق دوسرے پر آتا ہے وہ اس کو پوری طرح ادا کرے، خواہ صاحب حق کمزور ہو یا طاقت ور، اور خواہ وہ پسندیدہ شخص ہو یا نا پسندیدہ۔ حقوق کی ادائیگی میں صرف حق کا لحاظ کیا جائے نہ کہ دوسرے اعتبارات کا۔ دوسری چیز احسان ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ حقوق کی ادائیگی میں عالی ظرفی کا طریقہ اپنایا جائے۔ انصاف کے ساتھ مروت کو جمع کیا جائے ۔ قانونی دائرہ سے آگے بڑھ کر لوگوں کے ساتھ فیاضی اور ہمدردی کا رویہ اختیار کیا جائے۔ آدمی کے اندر یہ حوصلہ ہو کہ حتی الامکان وہ اپنے لئے اپنے حق سے کم پر راضی ہو جائے، اور دوسرے کو اس کے حق سے زیادہ دینے کی کوشش کرے۔ تیسری چیز ایتاء ذی القربیٰ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی جس طرح اپنے بیوی بچوں کی ضرورت کو دیکھ کر تڑپ اٹھتا ہے اور اس کو پورا کرتا ہے ، اسی طرح وہ دوسرے قریبی لوگوں کی ضرورت کے بارے میں بھی حساس ہو۔ ہر صاحب استعداد شخص اپنے مال پر صرف اپنا اور اپنے گھر والوں ہی کا حق نہ سمجھے بلکہ اپنے رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے کو بھی وہ اپنی ذمہ داری میں شامل کرے۔ اس کے بعد آیت میں تین چیزوں سے منع کیا گیا ہے۔ پہلی چیز فحشاء ہے۔ اس سے مراد کھلی ہوئی اخلاقی برائیاں ہیں۔ یعنی وہ برائیاں جن کا برا ہونا خود اپنے ضمیر کے تحت ہر آدمی کو معلوم ہوتا ہے۔ اور لوگ عام طور پر اس کو شرمناک سمجھتے ہیں۔ دوسری چیز منکر ہے۔ منکر معروف کا الٹ ہے۔ معروف ان اچھی باتوں کو کہتے ہیں جن کو ہر معاشرے میں اچھا سمجھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس منکر سے مراد وہ نامعقول کام ہیں جو عام اخلاقی معیار کے خلاف ہیں۔ اس میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں جن کو انسان عام طور پر برا جانتے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader