Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 104

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں اور جن کو قبول کرنے سے انسان کی فطرت انکار کرتی ہے۔ تیسری چیز بغی ہے۔ اس کے معنی ہیں حد سے تجاوز کرنا۔ اس میں ہر وہ سرکشی داخل ہے جب کہ آدمی اپنی واقعی حد سے گزر کر دوسرے شخص پر دست درازی کرے۔ وہ کسی کی جان یا مال یا آبرو لینے کے لئے اس کے اوپر ناحق کارروائیاں کرے۔ وہ اپنے زور واثر کو ناجائز فائدہ اٹھانے کے لئے استعمال کرنے لگے۔ اللہ تم کو نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد دہانی حاصل کرو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس آیت میں جو باتیں کہی گئی ہیں وہ خود فطرت انسانی کی آواز ہیں۔ آدمی اگر غور کرے تو وہ پائے گا کہ قرآن کی یہ تعلیم عین وہی ہے جس کی طلب پیشگی طور پر انسان کے اندر موجود تھی۔ قرآن کی اس بات کی حیثیت آدمی کو اس کی اپنی فطرت کی یاد دلانا ہے نہ کہ کسی خارجی حکم کو صرف اوپر سے نافذ کرنا۔ یہ احساس آدمی کو مجبور کرے گا کہ وہ قرآن کے پیغام کو خود اپنی فطرت کی آواز سمجھ کر قبول کرلے۔ 16-063 یکساں معاملہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : جو شخص کوئی نیک کام کرے ، خواہ وہ مرد ہو یا عورت ، بشر طیکہ وہ مومن ہو تو ہم اس کو زندگی دیں گے، ایک اچھی زندگی۔ اور جو کچھ وہ کرتے رہے اس کا ہم ان کو بہترین بدلہ دیں گے۔ (النحل ۹۷) اسلام کے مطابق، عورت اور مرد کے درمیان میدانِ کار (workplace) کے اعتبار سے تو ضر در فرق ہے۔ مگر خدا کی نعمتوں میں حصہ دار بننے کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ کوئی بھی فرد، خواہ وہ مرد ہو یا عورت ، اگر وہ معرفت خداوندی حاصل کرے اور اس کے مطابق وہ صالح کردار کا ثبوت دے تو دونوں یکساں طور پر اس خدائی رحمت کے مستحق قرار پائیں گے جو اس دنیا میں انسان کے لئے مقدر کی گئی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page