مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 105
By Maulana Wahiduddin Khan
اس خدائی رحمت کا پہلا حصہ یہ ہے کہ اس کو دنیا میں وہ زندگی حاصل ہو جو خدا کے نزدیک پاک زندگی (حیوۃ طیبہ) ہے۔ یعنی ہر موقع پر یہ توفیق ملنا کہ اس کے ذہن میں صحیح اور مثبت سوچ جگہ پائے۔ اسی طرح اس کو توفیق ملے کہ وہ ہر موقع پر وہ روش اختیار کرے جو اس دنیا میں ہر انسان کے لئے صحیح اور درست روش ہے۔ اس خدائی رحمت کا دوسرا حصہ وہ ہے جس کا ظہور آخرت میں ہوگا۔ یعنی اس کے ایمان اور اس کے عمل کو قبول کر کے ابدی جنت میں اس کا داخلہ۔ آیت کے مطابق ، خدا کی یہ رحمت جس طرح ایک مرد کے لئے ہے، ٹھیک اسی طرح وہ ایک عورت کے لئے بھی ہے۔ نتیجہ کے اعتبار سے دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ البتہ مرد کو اپنے دائرہ کار میں ایمان و عمل کا ثبوت دینا ہے اور عورت کو اپنے دائرہ کار میں۔ 16-064 دعوت کا اسلوب قرآن میں دعوت کا حکم دیتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: اپنے رب کے راستہ کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور ان سے اچھے طریقہ سے بحث کرو۔ بے شک تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور وہ ان کو بھی خوب جانता ہے جو راہ پر چلنے والے ہیں۔ (النحل ۱۲۵) اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ دعوت حق کا اسلوب کیا ہونا چاہئے۔ اس کو بتانے کے لئے قرآن میں تین لفظ استعمال کئے گئے ہیں___ حکمت، موعظت حسنہ اور جدال احسن۔ حکمت سے مراد دلیل و برہان ہے۔ کوئی دعوتی عمل اسی وقت حقیقی دعوتی عمل ہے جب کہ وہ ایسے دلائل کے ساتھ ہو جس میں مخاطب کے ذہن کی پوری رعایت شامل ہو۔ مخاطب کے نزدیک ، کسی چیز کے ثابت شدہ نہ ہونے کی جو شرائط ہیں، ان شرائط کی تکمیل کے ساتھ جو کلام کیا جائے اسی کو یہاں حکمت کا کلام کہا گیا ہے۔ جس کلام میں مخاطب کی ذہنی و فکری رعایت شامل نہ ہو وہ غیر حکیمانہ کلام ہے۔ اور ایسا کلام کسی کو داعی کا مرتبہ نہیں دے سکتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader